خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 646
خطبات مسرور جلد ہشتم 646 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 دسمبر 2010 حضرت چوہدری عبد الحکیم صاحب ولد چوہدری شرف الدین صاحب گھا کر چیاں تحصیل وزیر آباد ضلع گوجر انوالہ لکھتے ہیں کہ جس شام کو میں نے بیعت کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تشریف لے جانے کے بعد میں حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں حاضر ہو ا جو مسجد مبارک کے چھت کے پاس ہی کو ٹھڑی میں رہتے تھے“۔پہلی روایت بھی ان کی ہے۔انہوں نے ایک چھوٹی سی چارپائی چھت پر بچھائی ہوئی تھی۔میں اُن کی خدمت میں دیر تک بیٹھا رہا اور بہت سے مسئلے پوچھتا رہا۔مگر سوائے ایک بات کے اور کوئی مجھے یاد نہیں رہی اور وہ یہ کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے فرمایا کہ مخالف لوگ کہتے ہیں کہ نورالدین دنیا کمانے کے لئے قادیان آیا ہے۔مگر مجھے تو وہ چار پائی ملی ہے ( چارپائی پر بیٹھے ہوئے تھے) جس پر میرا آدھا جسم نیچے ہوتا ہے۔میں تو صرف خدا کے لئے یہاں آیا ہوں اور میں نے وہ حضرت اقدس کی بیعت میں پالیا۔جس خدا کے لئے میں یہاں آیا ہوں وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کر کے میں نے پالیا۔(ماخوذر جسٹر روایات صحابہ نمبر 3 صفحہ 125 روایت حضرت چوہدری عبد الحکیم صاحب۔غیر مطبوعہ ) یہی اعزاز تھا جس کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شعر میں حضرت خلیفہ اول کی تعریف اس طرح کی ہے کہ چه خوش بو دے اگر ہر یک زامت نور دیں بودے ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقیں بودے در ثمین فارسی صفحه 117 مطبوعه ربوه) کہ کیا ہی خوشی کی بات ہو اگر ہر ایک دل میں نور الدین کی طرح کا جذبہ ہو۔اور یہ اسی وقت ہو تا ہے جب ہر دل میں ایک یقین بھر اہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوے کے بارے میں حق الیقین پر قائم ہوں تو تبھی وہ رتبہ ملتا ہے جو حضرت مولانا نورالدین صاحب کو ملا۔حضرت حامد حسین خان صاحب جو محمد حسین خان صاحب مراد آباد کے بیٹے تھے۔کہتے ہیں کہ میں 1902ء میں علی گڑھ سے آکر میرٹھ میں ملازم ہوا تھا۔میری ملازمت کے کچھ عرصے بعد مکرمی خان صاحب ذوالفقار علی خان صاحب سبیل تبادلہ بعہدہ انسپکٹر آبکاری میرٹھ میں تشریف لے آئے۔آپ چونکہ احمدی تھے اور حضرت مسیح موعود کی بیعت کر چکے تھے ، لہذا آپ کے گھر پر دینی ذکر و اذکار ہونے لگے۔اور شیخ عبد الرشید صاحب زمیندار ساکن محله رنگ ساز صدر بازار میر ٹھ کیمپ پر مولوی عبد الرحیم صاحب وغیر ہ خان صاحب موصوف کے گھر پر آنے جانے لگے۔خان صاحب موصوف سے چونکہ مجھے بوجہ علی گڑھ کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے محبت تھی۔اس لئے میری نشست و برخاست بھی خان صاحب کے گھر پر ہونے لگی۔میں نے کتابیں دیکھنے کا شوق ظاہر کیا تو حضرت اقدس مسیح موعود کی چھوٹی چھوٹی تصانیف خان صاحب نے مجھے دیں جن میں غالب برکات الدعا پہلے پڑھی