خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 645
خطبات مسرور جلد ہشتم 645 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 دسمبر 2010 لیا۔مولوی بدرالدین صاحب نے مجھے قادیان فوراً جانے کا مشورہ دیا۔اور میرے ساتھ ایک اور اہلحدیث مولوی بھی تیار ہو گئے۔وہ مولوی سلطان محمود صاحب اہلحدیث کے شاگردِ خاص تھے۔کہتے ہیں غربت کی حالت تھی۔پندرہ روپے میری تنخواہ تھی۔میں نے رخصت لی اور ریلوے پاس کا حق نہیں تھا۔میں نے بمعہ دوسرے دوست کے امر تسر کا ٹکٹ لیا۔کیونکہ ہمارے پاس قادیان کا کرایہ پورا نہ تھا۔امر تسر پہنچ کر ہمارا ٹکٹ ختم ہو گیا۔اور ہم نے بٹالے والی گاڑی میں سوار ہونا تھا مگر ہمارے پاس صرف آٹھ آنے کے پیسے تھے۔اس لئے ہم نے دو دو آنے کا ویر کہ کا ٹکٹ لے لیا اور گاڑی میں سوار ہو گئے۔کہتے ہیں کہ یہ بھی وہاں سوار ہونے کے بعد پھر ہمیں خیال آیا کہ بٹالے جانا ہے اور ٹکٹ بھی اتنا نہیں ہے۔خیر ہم بیٹھے رہے۔اس دوران میں ٹکٹ چیکر آگیا۔اس نے ٹکٹ ہمارا چیک کیا۔لیکن ٹکٹ اچھی طرح چیک کرنے کے باوجود ہمیں ٹکٹ چیک کر کے واپس کر دیا کہ ٹھیک ہے۔اور اسی طرح سٹیشن سے باہر نکلتے ہوئے ٹکٹ چیک کرنے والے نے ٹکٹ چیک کیا اور ہمیں کچھ نہیں کہا۔ہم یہی دعا کرتے رہے کہ ایک نیک مقصد کے لئے ہم جارہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کی بے عزتی سے بچالے۔تو کہتے ہیں کہ اس ٹکٹ نے ہمیں آخر تک پہنچادیا۔ہم سمجھتے تھے کہ ہمارے لئے ایک پہلا معجزہ جو ہم نے دیکھا وہ یہی تھا۔لیکن بہر حال نیست نیک تھی۔مجبوری تھی اس کی وجہ سے انہوں نے ٹکٹ لیا نہ کہ ارادہ دھوکہ دینے کے لئے۔تو بہر حال لکھتے ہیں کہ بٹالے سے پھر پیدل قادیان چلے گئے۔قادیان جب ہم مسجد مبارک میں داخل ہوئے اُسی وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے۔میرے ساتھ جو دوست تھا وہ ایک اہلحدیث عالم تھا۔اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ملتے ہی ایک سوال کیا کہ جب قرآن اور حدیث ہماری رہنمائی کے لئے موجود ہے تو آپ کی بیعت کی کیا ضرورت ہے ؟ حضور اُسی وقت وہیں کھڑے ہو گئے اور تقریر شروع فرمائی۔ابھی حضور کی تقریر ختم نہ ہوئی تھی کہ معترض ساتھی نے عرض کیا کہ حضور میری تسلی ہو گئی ہے۔میں بیعت کرتا ہوں۔حضور نے فرمایا کہ ابھی ٹھہر و اور پوری تسلی کر لو۔شاید آپ کو دھو کہ نہ لگ جائے۔پھر نماز ظہر پڑھا کر گھر تشریف لے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تقریر کے خاتمے پر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے فرمایا کہ اخباروں میں سب کچھ لکھا جا چکا ہے۔(یعنی یہ سوال جواب پہلے ہو چکے ہوئے ہیں جو اس نے کیا تھا کہ کیا ضرورت ہے قرآن اور حدیث کی موجودگی میں کسی اور کی بیعت کرنے کی؟۔مولوی صاحب کہتے ہیں کہ پھر باہر سے آنے والے لوگ حضور کی خدمت میں سوال کر کے تکلیف دیتے ہیں اور اخبار کو نہیں پڑھتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ مولوی صاحب! تقریر تو میں کرتا ہوں اور تکلیف آپ کو ہوتی ہے۔حضور ہر سوال کرنے والے کا بڑی خندہ پیشانی سے جواب فرمایا کرتے تھے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ نمبر 3 صفحہ 121 تا 123 روایت حضرت چوہدری عبدالحکیم صاحب غیر مطبوعہ )