خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 644
644 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 دسمبر 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم آدمی صف میں بیٹھتے تو جگہ بھر جاتی تھی۔اُس ماہ میں بہت گرمی تھی یعنی جولائی میں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام جب مسجد میں تشریف آور ہوتے تو میں پنکھا چلاتا تھا، (ہاتھ کا پنکھا جھلا جاتا تھا)۔مولوی محمد علی صاحب کا دفتر مسجد مبارک کے اوپر تھا۔ایک دن مولوی محمد علی صاحب کو کچھ حضور کے آگے گزارش کرنی تھی، (اُن کا خیال تھا کہ بیٹھ کر گزارش کروں) مگر بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی۔کہتے ہیں یہ عاجز حضرت اقدس کے زانوئے مبارک سے اپنے زانو کو ملا کر پنکھا چلاتا تھا۔مولوی محمد علی نے ایک آدمی کو اشارہ کیا کہ اس کو پیچھے ہٹنے کے لئے اشارہ کرو۔کہتے ہیں میں اشارے پر پیچھے بٹنے لگا تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میرے زانو پر ہاتھ مار کر فرمایا: مت ہٹو، بیٹھے رہو اسی طرح۔یہ عاجز پھر پنکھا چلانے لگا۔اور مولوی محمد علی صاحب نے کھڑے ہو کر اپنی گذارش کی۔حضرت اقدس نے ان کو مناسب جواب دیا۔مولوی صاحب تحریر کر کے لکھ کے) چلے گئے۔لکھتے ہیں کہ اُس زمانے میں تو اس بات کا خیال نہیں رہا۔اب اس بات سے بہت سرور اور لذت آتی ہے کیونکہ میں ایک ادنی آدمی اور بے سمجھ اردو بھی پوری طرح نہیں آتی تھی اور مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے اور عالم تھے مگر نبی اللہ کی نظر میں ادنیٰ اور اعلیٰ ایک ہی ہوتا ہے۔یہ عاجز پندرہ دن صحبت میں رہا اور ہر ایک دن میں حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کا نورانی چہرہ روشن دیکھنے میں آتا تھا۔اس عاجز کو یہ ہی معلوم ہو تا تھا کہ اب حمام خانہ سے غسل کر کے آگئے ہیں اور سر مبارک کے بالوں (جو کندھے کے برابر تھے) سے گویا موتیوں کے قطرے گر رہے ہیں۔اس عاجز نے پندرہ روز میں حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے چہرہ مبارک میں غم نہیں دیکھا۔جب بھی مجلس میں آتے خوش خندہ پیشانی ہوتے۔پھر حضرت چوہدری عبد الحکیم صاحب ولد چوہدری شرف الدین صاحب ساکن گھا کر چیاں تحصیل وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ لکھتے ہیں کہ 1902ء کی گرمیوں کا موسم تھا۔میں ان دنوں ملتان چھاؤنی ریلوے سٹیشن پر بطور سگنلر (signaler) ملازم تھا۔میرے خیالات اہلحدیث کے تھے اور میں مولوی عبد الجبار اور عبد الغفار اہلحدیث جو دونوں بھائی تھے اور ملتان شہر کے قلعے کے پاس ان کی کتابوں کی دکان تھی اُن سے قرآن شریف کا ترجمہ پڑھا کرتا تھا کہ اتفاقاًمیری ملاقات مولوی بدرالدین احمدی سے ہوئی جو شہر کے اندر ایک پرائیویٹ سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔انہوں نے مجھے اخبار الحکم پڑھنے کو دیا۔مجھے یاد ہے کہ اخبار الحکم کے پہلے صفحے پر لکھا ہوا تھا کہ خدا تعالیٰ کی تازہ وحی اور کلمات طیبات امام الزمان۔میں ان کو پڑھتا تھا اور میرے دل کو ایک ایسی کشش اور محبت ہوتی تھی کہ فوراً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمتِ اقدس میں پہنچوں۔کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہوا اور باوجود اہلحدیث کے مولویوں کے بہکانے اور ورغلانے کے میں نے تھوڑے ہی عرصے میں احمدیت کو قبول کر (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ نمبر 3 صفحہ 92 روایت حضرت ماسٹر محمد پریل صاحب۔غیر مطبوعہ )