خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 643 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 643

خطبات مسرور جلد ہشتم 643 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 دسمبر 2010 یہاں آکر میں نے حضور کے چہرہ مبارک کا دیدار کیا تو میرے دل میں یکلخت یہ خیال پیدا ہوا کہ اگر مجھ کو ساری ریاست کشمیر بھی مل جائے تو بھی آپ کو چھوڑ کر قادیان سے باہر ہر گز نہ جاؤں۔یہ محض آپ کی کشش تھی جو مجھے واپس نہ جانے پر مجبور کر رہی تھی۔میرے لئے آپ کا چہرہ مبارک دیکھ کر قادیان سے باہر جانا بہت دشوار ہو گیا۔یہاں تک کہ مجھے آپ کو دیکھتے ہی سب کچھ بھول گیا۔میرے دل میں بس یہی ایک خیال پیدا ہو گیا کہ اگر باہر کہیں تیری تنخواہ ہزار بھی ہو گی تو کیا ہو گا۔لیکن تیرے باہر چلے جانے پر پھر تجھ کو یہ نورانی مبارک چہرہ ہر گز نظر نہیں آئے گا۔میں نے اس خیال پر اپنے وطن کو جانا ترک کر دیا اور یہی خیال کیا کہ اگر آج یا کل تیری موت آجائے تو حضور ضرور ہی تیر اجنازہ پڑھائیں گے جس سے تیر ا بیڑا بھی پار ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ بھی راضی ہو جائے گا۔اور قادیان میں ہی رہنے کا ارادہ کر لیا۔میرا یہاں پر ہر روز کا یہی معمول ہو گیا کہ ہر روز ایک لفافہ دعا کے لئے حضور کی خدمت میں آپ کے در پر جا کر کسی کے ہاتھ بھجوا دیا کرتا لیکن دل میں یہی خطرہ رہتا کہ کہیں حضور میرے اس عمل سے ناراض نہ ہو جائیں اور دل میں یہ محسوس نہ کریں کہ ہر وقت تنگ کر تا رہتا ہے۔لیکن میرا یہ خیال غلط نکلا وہ اس لئے کہ ایک روز حضور نے مجھے تحریر جواب میں فرمایا کہ آپ نے یہ بہت اچھا رویہ اختیار کر لیا ہے کہ مجھے یاد کرواتے رہتے ہو۔جس پر میں بھی آپ کے لئے خدا تعالیٰ سے دعا کرتارہتا ہوں اور انشاء اللہ پھر بھی کرتارہوں گا۔اللہ تعالیٰ آپ کو خود ہی دین و دنیا میں کامیابی دے گا۔اور خدا آپ پر راضی ہو جائے گا۔اور آپ کی شادی بھی خدا ضرور ہی کرا دے گا۔آپ مجھے یاد دہانی کراتے رہا کرو۔میں آپ پر بہت خوش ہوں۔کہتے ہیں کہ خاکسار نے حضور کی اس تحریر کو شیخ غلام احمد صاحب نو مسلم کو دکھایا اور کہا کہ حضور نے خاکسار کو آج یہ تحریر فرمایا ہے اور پھر کہا یہ کیا بات ہے کہ میں نے تو کبھی کسی موقع پر بھی حضور کو اپنی شادی کرنے یا کرانے کے بارے میں اشارہ تک نہیں کیا۔اس پر شیخ صاحب ہنس کر کہنے لگے کہ اب تو تمہاری شادی بہت جلد ہونے والی ہے۔کیونکہ حضور کا فرمانا خالی نہیں جایا کرتا۔آپ تیار ہی رہیں۔لکھتے ہیں کہ خدا شاہد ہے کہ حضور کے اس فرمانے کے قریباً دو ماہ کے اندر اندر ہی میری شادی ہو گئی۔اس سے پہلے میری کوئی بھی کسی جگہ شادی نہیں ہوئی تھی۔میری دو شادیاں حضور نے ہی کرائی تھیں۔ورنہ مجھ جیسے پر دیسی کو کون پوچھتا تھا۔یہ محض حضور کی خاص مہربانی اور نظر کرم تھی کہ آپ کے طفیل میری شادیاں ہوئیں۔کہاں میں اور کہاں یہ عمل۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ نمبر 4 صفحہ 95 تا 7 9 روایت حضرت مددخان صاحب غیر مطبوعہ ) حضرت ماسٹر محمد پریل صاحب ساکن کمال ڈیرہ سندھ لکھتے ہیں کہ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدَهُ وَرَسُولُهُ امَّا بَعْدُ یہ عاجز اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جولائی 1905ء میں حضرت جری اللہ فی حلل الانبیاء پر دست بیعت ہوا تھا۔اُس زمانے میں مسجد مبارک بہت چھوٹی تھی۔چار پانچ