خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 637
خطبات مسرور جلد ہشتم 637 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 دسمبر 2010 کا سب سے بہترین اظہار ہے جو کر بلا کے واقعہ پر ہو سکتا ہے ، جو ظلموں کو ختم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی مدد چاہنے کے لئے ہو سکتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ تم پر بھیجا گیا یہ درود آپ کی جسمانی اور روحانی اولاد کی تسکین کا باعث بھی بنتا ہے۔ترقیات کے نظارے بھی ہمیں نظر آتے ہیں۔آنحضرت صلی الی ظلم کے پیاروں سے پیار کا بھی یہ ایک بہترین اظہار ہے۔اور اس زمانے میں آپ کے عاشق صادق مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقاصد کی تکمیل میں بھی یہ درود بے انتہا برکتوں کے سامان لے کر آئے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان دنوں میں خاص طور پر درود پڑھنے کی ، زیادہ سے زیادہ درود پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور پھر یہ درود جو ہے ہماری ذات کے لئے بھی برکتوں کا موجب بنے والا ہو گا۔آخر میں میں حضرت امام حسین کے بارہ میں، ان کے مقام کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس پڑھوں گا جس کو ہر احمدی کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو کیا مقام دیا ہے؟ حضرت مسیح موعود کے الفاظ میں حضرت امام حسین کا مقام کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اطلاع دی تھی کہ حضرت امام حسین کے مقام اور رتبے کے بارہ میں کسی احمدی نے غلط بات کی ہے۔تو اس پر آپ نے فرمایا کہ: ”مجھے اطلاع ملی ہے کہ بعض نادان آدمی جو اپنے تئیں میری جماعت کی طرف منسوب کرتے ہیں، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت یہ کلمات منہ پر لاتے ہیں کہ نعوذ باللہ حسین بوجہ اس کے کہ اُس نے خلیفہ وقت یعنی یزید سے بیعت نہیں کی ، باغی تھا اور یزید حق پر تھا۔لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ۔مجھے امید نہیں کہ میری جماعت کے کسی راستباز کے منہ پر ایسے خبیث الفاظ نکلے ہوں“۔فرمایا ”بہر حال میں اس اشتہار کے ذریعہ سے اپنی جماعت کو اطلاع دیتا ہوں کہ ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ یزید ایک ناپاک طبع دُنیا کا کیڑا اور ظالم تھا اور جن معنوں کی رو سے کسی کو مومن کہا جاتا ہے وہ معنے اس میں موجود نہ تھے۔مومن بنا کوئی امر سہل نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ ایسے شخصوں کی نسبت فرماتا ہے قَالَتِ الْأَعْرَابُ أَمَنَا ۖ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوا وَ لكن قُولُوا اسْلَمْنَا (الحجرات: 15) مومن وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے اعمال ان کے ایمان پر گواہی دیتے ہیں۔جن کے دل پر ایمان لکھا جاتا ہے اور جو اپنے خدا اور اس کی رضا کو ہر ایک چیز پر مقدم کر لیتے ہیں اور تقویٰ کی باریک اور تنگ راہوں کو خذا کے لئے اختیار کرتے اور اس کی محبت میں محو ہو جاتے ہیں اور ہر ایک چیز جو بت کی طرح خدا سے روکتی ہے خواہ وہ اخلاقی حالت ہو یا اعمالِ فاسقانہ ہوں یا غفلت اور کسل ہو سب سے اپنے تئیں دور تر لے جاتے ہیں۔لیکن بد نصیب یزید کو یہ باتیں کہاں حاصل تھیں۔دُنیا کی محبت نے اس کو اندھا کر دیا تھا۔مگر حسین رضی اللہ عنہ طاہر مطہر تھا اور بلاشبہ وہ اُن بر گزیدوں میں سے ہے جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنی محبت سے معمور کر دیتا ہے اور بلاشبہ وہ سردارانِ بہشت میں سے ہے اور ایک ذرہ کینہ رکھنا اس سے موجب سلب ایمان ہے اور اس امام کی تقویٰ اور محبت الہی اور صبر ، استقامت اور زہد اور عبادت ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہے اور ہم