خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 636
خطبات مسرور جلد ہشتم 636 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 دسمبر 2010 جیسا کہ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اُن باتوں کو جو پہلے ہو چکی ہیں مسیح موعود کے زمانے میں نہیں دہرائے گا، ان میں ایک خلافت کا تسلسل بھی ہے۔ایک طریقہ کار کے مطابق انتخاب خلافت بھی ہے اور اس کی آنحضرت صلی علی ایم نے پیشگوئی بھی فرمائی تھی کہ مسیح و مہدی کے بعد یہ تسلسل بھی قائم رہے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس کی وضاحت فرمائی ہے کہ کس طرح یہ باتیں نہیں دہرائی جائیں گی ؟ مثلاً یہ کہ اگر پہلا آدم جنت سے نکالا گیا تھا تو حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ میرا نام اللہ تعالیٰ نے آدم رکھا ہے تا کہ اولادِ آدم کے جنت میں جانے کا ایک نئے سرے سے انتظام ہو۔پھر فرمایا کہ پہلے مسیح کو یہودیوں نے صلیب دی تھی تو میرا نام مسیح رکھ کر اللہ تعالیٰ نے صلیب کو توڑنے کا سامان مہیا فرمایا۔پس اللہ تعالیٰ پہلی دفعہ کی ناکامی کو دوسری دفعہ کامیابی سے بدلے گا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 15 صفحہ 498-499 مطبوعہ ربوہ) اگر پہلے حسین کو یزید نے حق گوئی کی وجہ سے شہید کیا تھا تو دوسرے حسین کی وجہ سے خدا تعالیٰ یزید کے لشکر کو شکست دے گا، انشاء اللہ۔پس ہم تو اس ایمان پر قائم ہیں۔پس اگر محرم کا مہینہ ہمیں کوئی سبق دیتا ہے تو یہ ہے کہ ہم آنحضرت صلی علیہ تم پر اور آپ کی آل پر ہمیشہ درود بھیجتے رہیں۔زمانے کے امام کے مقاصد کے حصول میں درود، دعاؤں اور اپنی حالتوں میں پاک تبدیلی پیدا کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔اور یزیدی صفت لوگوں کے سامنے استقامت دکھاتے ہوئے ہمیشہ ڈٹے رہیں۔یقینا اس مرتبہ یزید کامیاب نہیں ہو گا، بلکہ حسینی ہی کامیاب ہوں گے۔استقامت کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہی ملتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے لئے اللہ تعالیٰ نے دعا اور صبر کا ارشاد فرمایا ہے۔صبر صرف ظلم کو برداشت کرنا ہی نہیں ہے۔جو ہو جائے اس پر خاموش بیٹھے رہنا نہیں ہے۔بلکہ مستقل مزاجی کے ساتھ نیک کام کو جاری رکھنا اور کسی بھی خوف اور خطرے سے بے پرواہ ہو کر حق کا اظہار کرتے چلے جانا، یہ بھی صبر ہے۔پس حضرت امام حسین نے جو حق کے اظہار کے نمونے ہمارے سامنے قائم فرمائے ہیں اسے ہمیں ہر وقت پکڑے رہنا چاہئے۔اور اگر ہم اس پر قائم رہے تو ہم اس فتح اور کامیابی کا حصہ بنیں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ مقدر ہے۔انشاء اللہ۔درود شریف کی اہمیت اور برکت دعاؤں کی قبولیت کے لئے درود شریف بہت اہم چیز ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس طرف توجہ دلائی ہے۔احادیث میں بھی اس کا بہت ذکر آتا ہے اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں بھی درود کی طرف توجہ دلائی ہے۔اس لئے ہمیں عموماً درود کی طرف متوجہ رہنا چاہئے اور اس مہینے میں خاص طور پر اس طرف توجہ رکھنی چاہئے۔جیسا کہ ایک مرتبہ پہلے حضرت خلیفتہ المسیح الرابع" نے بھی اس کی خاص تحریک فرمائی تھی تو میں بھی اس کا اعادہ کرتے ہوئے یاد دہانی کرواتا ہوں کہ اس مہینے میں درود بہت پڑھیں۔یہ جذبات