خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 622 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 622

622 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03دسمبر 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم کے آگے جھکنا، غموں اور دکھوں میں بجائے بدلے لینے کے صبر اور استقامت دکھاتے ہوئے انہیں برداشت کرنا اور برداشت کرتے چلے جانا اور اللہ تعالیٰ کے حضور مزید جھکتے چلے جانا، یہی باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی برکتوں اور رحمتوں کا وارث بناتی ہیں۔اور یہی گروہ ہے جو آج بے شک اقلیت میں ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی نظر میں یہ ہدایت یافتہ ہے اور دنیا کی ہدایت کا باعث بننے والا ہے انشاء اللہ۔پس اس مقام کو حاصل کرنے کے لئے ، رحمتوں اور برکتوں کے حصول کے لئے ، ہدایت یافتہ کہلانے کا حق دار بننے کے لئے ، اپنے خدا کی رحمتوں اور برکتوں کی تلاش میں ڈوبنا ضروری ہے اور پہلا قدم بندے نے اٹھانا ہے۔پھر بندہ خدا تعالیٰ کے انعاموں کا وارث بنتا ہے۔جب انسان اپنے پیارے خدا میں جو اپنے آگے جھکنے والوں کو اپنے راستے دکھاتا ہے جو گو بظاہر ایک دنیا دار کو نظر نہیں آتا لیکن ہر جگہ موجود ہے۔ایک مومن کی آنکھ تو اسے دیکھ رہی ہوتی ہے اور پھر ان پر اپنی جلوہ گری بھی کرتا ہے۔وہ اپنے انعامات سے پہچانا جاتا ہے۔دعاؤں کی قبولیت سے پہچانا جاتا ہے۔جب اس کے بندے دنیا والوں کی تکالیف سے پریشان ہو کر اس کے حضور جھکتے ہیں تو وہ دوڑ کر آتا ہے اور اپنے بندوں کو اپنے حصارِ عافیت میں لے لیتا ہے۔دشمنوں سے خود بدلے لیتا ہے اور اپنے بندے کو انعامات سے نوازتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اس تمام قدرتوں والے اور برکتیں عطا کرنے والے ، رحم کرنے والے، دعاؤں کو سننے والے خدا میں ڈوب جاؤ۔اس کی پناہ میں آنے کی کوشش کرو۔اور یہی نسخہ ہے جو مومنین کے ہمیشہ کام آتا ہے۔پس دنیا جب بھی ان اللہ والوں کی طرف اپنے زعم میں ہر بُری چیز پھینک رہی ہوتی ہے۔ہر قسم کی تکلیف انہیں پہنچانے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے تو خدا تعالیٰ اور اس کے فرشتے یار میں نہاں ہونے والوں کے اوپر ہر رحمت اور برکت برسا رہے ہوتے ہیں۔اور اللہ بھی اور فرشتے بھی یہ اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ اے دنیا والو! تم جتنے چاہو ان پر فتوے لگا کر اُن پر ظلم و تعدی کے بازار گرم کرو لیکن یاد رکھو کہ یہی لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کے وارث ہیں اور یہی لوگ اللہ تعالیٰ کی نظر میں ہدایت یافتہ ہیں اور اب دنیا کی ہدایت بھی انہی لوگوں سے وابستہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے میری باتوں پر ایمان لاتے ہوئے زمانے کے امام کو مانا۔پس میں ان تمام احمدیوں سے کہتا ہوں جو آج کل مختلف قسم کی تکالیف کے دور سے گزر رہے ہیں۔جو مجھے خط لکھتے ہیں اور مخالفین کی کمینی حرکات سے بچنے کے لئے دعا کے لئے کہتے ہیں کہ اپنی دعاؤں میں وہ بھی مزید توجہ پیدا کریں۔جو لوگ براہِ راست تکلیفوں میں گرفتار نہیں ہیں وہ بھی اپنے بھائی، اپنی بہنوں اور اپنے بچوں کی تکالیف کا خیال کرتے ہوئے ان کے لئے دعائیں کریں۔صرف اپنے نفس کو ہی سامنے نہ رکھیں، صرف اپنی مشکلات جو دنیاوی مشکلات ہیں اُنہیں ہی سامنے رکھتے ہوئے پریشان نہ ہو جایا کریں بلکہ ظلم کی چکی میں پسنے والے اپنے بھائیوں، اپنی بہنوں اور بچوں کو سامنے رکھیں۔ہمدردی کے جذبے سے کی گئی یہ دعائیں آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کی