خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 621 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 621

خطبات مسرور جلد ہشتم 621 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03دسمبر 2010 ہو گئے۔اور جب یہ ایک ہوں گے جس طرح ماضی میں انبیاء کی جماعتوں کے ساتھ ایک ہوتے رہے تو اللہ والے اُس یار میں ڈوب جاتے ہیں۔اس کی پناہ میں جا کر یہ اعلان کرتے ہیں کہ حسبنا الله - اللہ ہمیں کافی ہے۔ہمیں اور کسی پناہ گاہ کی ضرورت نہیں۔ہم صرف اور صرف اپنے خدا کی پناہ میں آتے ہیں جو حسیب ہے جو ہمارے دشمنوں کو سزا دینے کے لئے کافی ہے۔جو دشمنوں سے بدلہ لینے کے لئے کافی ہے اور نہ صرف یہ کہ دشمن سے بدلہ لیتا ہے بلکہ اُن ظلموں اور تکلیفوں کو برداشت کرنے کی وجہ سے مومنین کو انعامات سے بھی نوازتا ہے۔پس یہاں اللہ تعالیٰ کے حسیب ہونے کے معانی ہر پہلو کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔اور کیوں اللہ تعالیٰ مؤمنین کے لئے ہر لحاظ سے کافی نہ ہو ؟ وہ بہترین کارساز ہے۔اس سے زیادہ اور کون ہے جو اپنے بندوں کے معاملات کو سمجھ سکتا ہے۔جب بندہ مکمل طور پر اُس کے آگے جھکتے ہوئے اُس کے سامنے اپنے تمام معاملات رکھ کر اُس پر انحصار کرتا ہے تو پھر جہاں وہ اپنی طرف جھکنے والوں کے دشمنوں کی پکڑ کرتا ہے وہاں اپنے انعامات کا اعلان کرتے ہوئے بشِّرِ الصُّبِرِينَ (البقرة: 156) کی خوشخبری بھی دیتا ہے۔اس کی وضاحت بھی میں گزشتہ خطبات میں کر چکا ہوں۔اور پھر یار میں نہاں ہونے والے جو ان سب تکلیفوں کو جو خدا تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے کی وجہ سے انہیں دی جاتی ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر انہیں برداشت کرتے ہیں اُن کے بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُولبِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوتَ مِنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَبِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ (البقرة : 158)۔یہی وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے برکتیں نازل ہوتی ہیں اور رحمت بھی اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔پس جو تمام تر تکالیف میں، تمام تر مشکلات میں، ہر قسم کی ذہنی اذیتوں سے گزرنے کے باوجود خدا تعالیٰ کا دامن نہیں چھوڑتے بلکہ پہلے سے بڑھ کر اس میں نہاں ہونے کی کوشش کرتے ہیں، اس میں ڈوبنے کی کوشش کرتے ہیں، اُس سے چمٹنے کی کوشش کرتے ہیں تو اُن لوگوں کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہیں روحانی بلندیاں بھی ملیں گی اور مادی اور دنیاوی انعامات بھی ملیں گے۔اور ان لوگوں کو یہ سند بھی اللہ تعالیٰ دیتا ہے کہ تمہی ہدایت پر ہو۔اب مخالفین احمدیت لاکھ کہیں کہ دیکھو تمہارے بارہ میں ہم سب ایک ہیں اور تمہیں اسلام سے خارج کرنے کا ایک فیصلہ کیا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم حق پر ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابتلاؤں اور آزمائشوں میں جب مومن میری طرف جھکتے ہیں اور میری خاطر تکالیف برداشت کرتے ہیں، جتھوں کے مقابلے پر اپنے ایمان کی حفاظت کرتے ہیں اور انَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہہ کر ہر تکلیف پر ، ہر مصیبت پر ، ہر ابتلا پر خاموش ہو جاتے ہیں تو یہی ہدایت یافتہ ہیں۔مخالفین کا ایک ہونا انہیں ہدایت یافتہ ثابت نہیں کرتا بلکہ جیسا کہ آنحضرت صلی ال سلیم نے حدیث میں فرمایا تھا کہ مسیح موعود کے زمانے میں تمام فرقے ایک ہو جائیں گے۔اور ایک ہی فرقہ ہو گا جو ہدایت پر قائم ہو گا۔(سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب افتراق الامم حدیث: 3993) پس یہ دلیل تو ان کے خلاف جاتی ہے۔ان کا ایک ہو نا جیسا کہ میں نے کہا اُن کو ہدایت یافتہ نہیں بناتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول اور اس