خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 623 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 623

خطبات مسرور جلد ہشتم 623 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 دسمبر 2010 رحمتوں اور برکتوں کا وارث بنائیں گی۔حقیقی ہدایت یافتہ تو وہی ہے جو حقیقی مومن ہے اور حقیقی مومن وہ ہے جو اپنے مؤمن بھائی کے درد کو بھی، اُس کی تکلیف کو بھی اپنے درد اور اپنی تکلیف کی طرح محسوس کرتا ہے۔جس طرح جسم کا ایک عضو تکلیف میں ہو تو سارا جسم تکلیف میں ہوتا ہے اس طرح ایک مومن دوسرے موسمن کی تکلیف کو محسوس کرتا ہے۔پس ان حالات میں دنیا بھر کی جماعتوں کے تمام افراد کو میں خاص طور پر اپنے مظلوم اور تکلیف اور مشکلات میں گرفتار بھائیوں کے لئے دعاؤں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ہر احمدی کم از کم دو نفل روزانہ صرف ان لوگوں کے لئے ادا کرے جو احمدیت کی وجہ سے کسی بھی قسم کی تکلیف میں مبتلا ہیں۔جو ظالمانہ قوانین کی وجہ سے اپنی شہری اور مذہبی آزادیوں سے محروم کر دیئے گئے ہیں۔اسی طرح جماعتی ترقی کے لئے بھی خاص طور پر دعائیں کریں۔پس اگر ہر احمدی اپنے دل کی بے چینی کو خدا تعالیٰ کے حضور پہلے سے بڑھ کر پیش کرے گا تو وہ خود مشاہدہ کرے گا کہ اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظر اس پر کس طرح پڑ رہی ہے۔پہلے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ ان کو اپنے حصار میں لے لے گا۔پاکستان میں احمدی طلباء کی مشکلات بعض طلباء بھی مجھے خط لکھتے ہیں، طالبات بھی لکھتی ہیں کہ ہمارے کالجوں، سکولوں، یونیورسٹیوں میں ہمارے ساتھی غیر از جماعت طلباء و طالبات ہمیں تنگ کرتے ہیں، مختلف قسم کے طعنے دیتے ہیں۔پڑھائی میں اثر انداز ہوتے ہیں۔حتی کہ جو ٹیچر ز اور پروفیسر ہیں وہ بھی اتنی گھٹیا سوچ کے ہو گئے ہیں کہ اپنے پیشے کی اخلاقیات کو بھی بھول گئے ہیں۔ایک زمانہ تھا کہ استاد ایک خاص عزت کا مقام رکھتا تھا، اس کی ایک پہچان تھی۔قطع نظر مذہب کے ہر طالب علم کا ہمدرد بن کر اس کے علم کی پیاس بجھانے کی کوشش کرتا تھا اور یہ ایک استاد کے فرائض تھے۔لیکن آج اخلاقیات کے دعویدار اور اپنے آپ کو سب سے اچھا مسلمان کہنے والے اپنے معزز پیشے کی بھی دھجیاں اڑا رہے ہیں اور اس پر پھر دعویٰ بھی ہے کہ یہ مذہبی غیرت ہے جس کا اظہار ہم کر رہے ہیں۔یہ مذہبی غیرت نہیں، یہ جہالتوں کی انتہا ہے۔جو شخص اپنے پیشے سے انصاف نہیں کر سکتا اس نے اسلام کی بنیادی تعلیم ہی نہیں سمجھی۔جو شخص اپنے کینے اور بغض کی وجہ سے انصاف کو قائم نہیں رکھ سکتا وہ اسلام کی بنیادی تعلیم سے بھی روگردانی کر رہا ہے۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى اَلَا تَعْدِلُوا ( المائدہ: 9) کہ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس کام پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف سے کام نہ لو۔پس یہ لوگ پڑھے لکھے جاہل ہیں جو جاہل ملاؤں کے پیچھے چل کر نہ صرف یہ کہ اپنے پیشے سے بے انصافی کر رہے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے واضح حکم کی بھی نافرمانی کر رہے ہیں۔اور پھر دعویٰ یہ ہے کہ ہم وہ لوگ ہیں جو ہدایت یافتہ ہیں۔پس ایک مومن کے لئے ان تمام ظلموں اور زیادتیوں کا ایک ہی حل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھک جائیں۔یارِ نہاں میں نہاں ہونے کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں، اس میں