خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 620 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 620

خطبات مسرور جلد ہشتم 620 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03دسمبر 2010 بات مان کر تمہارے پیچھے چل پڑیں گے۔تمہارے آگے ہاتھ جوڑ کر رحم کی بھیک مانگیں گے۔تمہارے پاؤں پڑ کر تم سے زندگی کی فریاد کریں گے لیکن یہ سب تمہاری بھول ہے۔ہم تو اس عظیم نبی صلی یتیم کے ماننے والے ہیں جس نے خود بھی صبر اور عالی ہمتی کا عظیم نمونہ دکھایا اور اپنے صحابہ میں بھی قوتِ قدسی سے وہ جذبہ پیدا کیا جس نے صبر واستقامت کے وہ عظیم معیار قائم کر دیئے جن کا ذکر میں نے گزشتہ خطبات میں کیا تھا۔ظلم و تعدی نے اُن سے آحد احد کا نعرہ تو لگوایا لیکن کسی بت کے بڑا ہونے کا نعرہ نہیں لگوایا۔ظلم بڑھے تو ان کی سجدہ گاہیں اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑاتے ہوئے تو تر ہوئیں، کسی بت یا بت کے پجاری کے آگے ماتھا ٹیک کر گڑ گڑاتے ہوئے نہیں۔پس جب ہمیں حکم ہے کہ ان نمونوں کو پکڑو تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم اس اصل کو بھول کر ان دشمنوں کے پیچھے چل پڑیں، ان مخالفین احمدیت کے پیچھے چل پڑیں۔ہمیں ہمارے ایمان سے ہٹانے کی ہر کوشش انہی پر الٹ جائے گی۔ان کے تمام منصوبے اکارت جائیں گے۔ان کی خواہشات کبھی پوری نہیں ہوں گی، اس لئے کہ ہم نے اپنے سچے وعدوں والے خدا کو پہچان لیا ہے۔ہم نے آنحضرت صلی علیکم کے غلام صادق کے ساتھ خدا تعالیٰ کی فعلی شہادتوں کو پورا ہوتے دیکھ لیا ہے۔ہم نے آنحضرت صلی علی کم کی پیشگوئیوں کو پورا ہوتے دیکھ لیا ہے تو پھر ہم ان ڈرانے والوں اور ان کے ظلموں کی وجہ سے اپنے خدا کو کس طرح چھوڑ دیں جس نے جماعت کو ہر آزمائش میں اور ہر ابتلاء سے دلوں کی تسکین پیدا کرتے ہوئے گزارا ہے۔ہمیں آنحضرت صلی للی کم اور آپ کے غلام صادق پر ایمان اور یقین میں مزید پختہ کیا ہے۔پس یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ ہم اپنے خدا کو چھوڑ کر ان جیسوں کو جن کی ہمارے نزدیک ایک کوڑی کی بھی حیثیت نہیں ہے ، خدا بنالیں۔اپنے ایمانوں کو ضائع کر دیں۔اللہ تعالیٰ کے دنیاو آخرت میں پیار سے محروم ہو جائیں۔اگر یہ ان لوگوں کی سوچ ہے تو ان جیسا شائد ہی دنیا میں اور روئے زمین پر کوئی پاگل ہو۔اگر اس سوچ کے ساتھ یہ احمدیوں پر سختیاں اور تنگیاں وارد کر رہے ہیں تو یہ ان کی بھول ہے۔یہ مشکلات اور تکلیفیں تو ہمیں خدا تعالیٰ سے دور ہٹانے کی بجائے اس کے قریب تر کر دیتی ہیں۔ہم تو اُن ایمان کا عرفان رکھنے والوں میں شامل ہیں اور شامل ہونے کی کوشش کرتے ہیں جن کے بارے میں قرآنِ کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے: الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قد جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ( آل عمران : 174) یہ وہ لوگ ہیں جنہیں دشمنوں نے کہا تھا کہ لوگ تمہارے خلاف جمع ہو گئے ہیں اس لئے تم اُن سے ڈرو۔اس بات نے ان کے ایمان کو اور بھی بڑھا دیا۔اُن کو ایمان میں اور بھی مضبوط کر دیا اور انہوں نے کہا ہمارے لئے اللہ کی ذات ہی کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کار ساز ہے۔پس دشمن کا جتھہ ، اُس کا ایک ہونا ہمیں ایمان میں بڑھاتا ہے۔اس بات سے تو ہم آنحضرت صلی علیم کی پیشگوئی پوری ہوتی دیکھتے ہیں۔اس پر مزید یقین قائم ہوتا ہے کہ مسیح موعود کے زمانے میں اللہ تعالیٰ کی تائید یافتہ جماعت کے مقابلے میں تمام دوسرے گروہ اور فرقے ایک ہو جائیں گے اور وہ