خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 619 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 619

خطبات مسرور جلد ہشتم 619 49 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03دسمبر 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 03 دسمبر 2010ء بمطابق 03 فتح 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: دشمن جب اپنی دشمنی کی انتہا کو پہنچتا ہے، اللہ والوں کو ختم کرنے کے لئے ہر قسم کے خیلے اور حربے استعمال کرتا ہے، مختلف طریقے سے نقصان پہنچانے کے لئے منصوبہ بندیاں کرتا ہے، جانی اور مالی نقصان پہنچانے کے لئے جو بھی اس سے بن پڑتا ہے کرتا ہے۔ہر عمر اور ہر طبقے کے افراد کو ہر وقت ذہنی اذیتیں پہنچانے کے لئے اور ان کا ذہنی سکون برباد کرنے کے لئے گھٹیا ترین اور انسانیت سے گرے ہوئے کام کرتا ہے۔حتیٰ کہ نہ بیچے کالحاظ ، نہ بوڑھے کا لحاظ ، نہ عورت کا لحاظ رہتا ہے۔ظالمانہ اور بہیمانہ روشیں اپنا لیتا ہے تاکہ ان اللہ والوں کو اللہ کی رضا کے حصول سے دور ہٹانے کی کوشش کرے۔تو اُس وقت صبر و استقامت دکھانے والے مومنین اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتے ہوئے اس سے مددمانگتے ہیں۔دشمن کی اس انتہا اور اس کے نتیجے میں مومنین کی اس کیفیت کا نقشہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ایک شعر میں یوں کھینچا ہے۔فرمایا۔عد وجب بڑھ گیا شور وفغاں میں نہاں ہم ہو گئے یارِ نہاں میں (الحکم 10 دسمبر 1901 جلد 5 نمبر 45 صفحہ 3 کالم 2) پس یہ وہ نقشہ ہے جو مجبور و مظلوم مؤمنین کا اُن کی مجبوری اور مظلومیت کی حالت اور اُس کے رد عمل کے طور پر ہوتا ہے اور ہونا چاہئے۔اور آج یہ کیفیت اس روئے زمین پر دنیا کے بعض مسلمان ممالک میں سوائے احمدیوں کے کہیں اور ہمیں نظر نہیں آتی اور پاکستان میں اس کی انتہا آئے دن ہمیں دیکھنے میں آتی ہے۔ہم اس عظیم نبی صلی ال کلم کے ماننے والے ہیں اس شعر میں جہاں ایک طرف دشمن کی انتہائی حالت کا ذکر ہے تو دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنے والے اور صبر واستقامت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے حضور مزید جھکتے چلے جانے والوں کا ذکر ہے۔دشمن پر واضح کیا گیا ہے کہ تم نے تو یہ شورشیں، یہ زیادتیاں، یہ ظلم، یہ بربریت ہم پر اس لئے روار کھی کہ ہم تمہاری