خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 617 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 617

617 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 نومبر 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم کچھ آزاد واقع ہوئی ہے ، مولوی عبد الکریم صاحب کی کچھ گستاخی کی جس پر مولوی صاحب کو غصہ آگیا۔انہوں نے فلاسفر صاحب کو تھپڑ مار دیا۔اس پر فلاسفر اور تیز ہو گیا اور بُرا بھلا کہنے لگا۔جس پر بعض لوگوں نے اس فلاسفر کو خوب اچھی طرح مارا پیٹا۔اس پر اس نے چوک میں کھڑے ہو کر رونا چلانا شروع کر دیا۔اتنی آواز بلند ہوئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کانوں تک آواز پہنچ گئی۔آپ نماز مغرب سے قبل مسجد میں تشریف لائے تو آپ کے چہرے پر ناراضگی کے آثار تھے اور آپ مسجد میں ادھر اُدھر ٹہلنے لگے۔اس وقت حضرت مولوی عبد الکریم صاحب بھی موجود تھے۔آپ نے فرمایا کہ اس طرح کسی کو مارنا بہت ناپسندیدہ فعل ہے اور یہ بہت بُری حرکت کی گئی ہے۔مولوی صاحب نے فلاسفر کا گستاخانہ رویہ اور اپنی بریت کے متعلق کچھ عرض کیا۔آپ نے بڑے غصے میں فرمایا بہر حال یہ ناواجب بات ہوئی ہے۔جب خدا کا رسول آپ لوگوں کے اندر موجود ہے تو آپ کو خود بخود اپنی رائے سے کوئی فعل نہیں کرنا چاہئے تھا بلکہ مجھ سے پوچھنا چاہئے تھا۔کہتے ہیں کہ ان باتوں پر مولوی صاحب رو پڑے اور حضرت صاحب سے معافی مانگی اور اس کے بعد مارنے والے ساروں نے ، اس فلاسفر سے جس کو مارا تھا جا کر معافی مانگی اور اس کو راضی کیا بلکہ لکھا ہے کہ اُس کو دودھ وغیرہ بھی پلایا۔(ماخوذ از سیرت المہدی حصہ دوم جلد اول روایت نمبر 437۔صفحہ 395-394 مطبوعہ ربوہ ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ”اے تمام لوگو! سُن رکھو کہ یہ اس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا اور حجت اور برہان کے رو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہو گا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا اور ہر ایک کو جو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نامراد رکھے گا۔اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائیگی۔اگر اب مجھ سے ٹھٹھا کرتے ہیں تو اس ٹھٹھے سے کیا نقصان ؟ کیونکہ کوئی نبی نہیں جس سے ٹھٹھا نہیں کیا گیا۔پس ضرور تھا کہ مسیح موعود سے بھی ٹھٹھا کیا جاتا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِعُونَ (يس:31) پس خدا کی طرف سے یہ نشانی ہے کہ ہر ایک نبی سے ٹھٹھا کیا جاتا ہے۔مگر ایسا آدمی جو تمام لوگوں کے روبرو آسمان سے اترے اور فرشتے بھی اُس کے ساتھ ہوں اس سے کون ٹھٹھا کرے گا“۔( یہ غیر احمدیوں کا نظریہ ہے نا کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اتریں گے۔فرمایا کہ اس طرح اگر کوئی اترے گا تو اس سے کون ٹھٹھا کرے گا؟“ پس اس دلیل سے بھی عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ مسیح موعود کا آسمان سے اترنا محض جھوٹا خیال ہے۔یاد رکھو کہ کوئی آسمان سے نہیں اترے گا۔ہمارے سب مخالف جواب زندہ موجود ہیں وہ تمام مریں گے اور کوئی اُن میں سے عیسی بن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا۔اور پھر ان کی اولاد جو باقی رہے گی وہ بھی مرے گی اور اُن میں سے بھی کوئی آدمی عیسی بن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا۔اور پھر اولاد کی اولاد مرے