خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 618 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 618

خطبات مسرور جلد ہشتم 618 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 نومبر 2010 گی اور وہ بھی مریم کے بیٹے کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گی۔تب خدا اُن کے دلوں میں گھبر اہٹ ڈالے گا کہ زمانہ صلیب کے غلبہ کا بھی گزر گیا اور دنیا دوسرے رنگ میں آگئی مگر مریم کا بیٹا عیسی اب تک آسمان سے نہ اترا۔تب دانشمند یکد فعہ اس عقیدہ سے بیزار ہو جائیں گے۔اور ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہوگی کہ عیسی کے انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت نومید اور بدظن ہو کر اس جھوٹے عقیدہ کو چھوڑیں گے اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہو گا اور ایک ہی پیشوا۔میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں۔سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اُس کو روک سکے“۔( تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد 20 صفحه 67-66) اب جو یہ احمدیوں کو کہتے ہیں، اعتراض کرتے ہیں اور بعض کمزور طبع ان غیروں کی باتوں میں آجاتے ہیں کہ تم لوگ کب تک صبر کرتے رہو گے۔میں نے پچھلے (خطبہ) میں بھی ذکر کیا تھا۔پتہ نہیں یہ جو ہمارے نام نہاد ہمدردی کرنے والے ہیں ان کو ہماری اتنی فکر کیوں ہے ؟ اپنے آپ کو سنبھالیں اور اپنی عاقبت کی فکر کریں کہ اپنی عاقبت خراب نہ ہو رہی ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ مشکلات اور مخالفتیں تھوڑے عرصے میں دور ہو جائیں گی اور احمدیت کی اکثریت دنیا میں تیس سال یا چالیس سال یا سو سال میں ہو جائے گی بلکہ فرمایا کہ ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہو گی (اور یہ حوالہ جو آپ نے لکھا ہے یہ تذکرۃ الشہادتین کا ہے جو 1903ء میں لکھی گئی تھی۔یعنی ایک سوسات سال پہلے )۔اور آج جماعت احمد یہ تمام مخالفتوں سے صبر اور دعا کے ساتھ گزرتی ہوئی اللہ تعالیٰ کے فضل سے 198 ممالک میں پہنچ چکی ہے ، اور روز بروز یہ جماعت ترقی کر رہی ہے اور آج ہم دنیا کے ہر خطہ میں جماعت احمدیہ کو دیکھ رہے ہیں۔اور اس ترقی نے ہی دشمن کو بوکھلا دیا ہے۔یہ جو مخالفتیں بڑھ رہی ہیں، دشمنیاں بڑھ رہی ہیں ، جماعت کے خلاف منصوبہ بندیاں بڑھ رہی ہیں، یہ صرف اس لئے ہیں کہ جماعت ان کو پھیلتی نظر آرہی ہے۔پس یہ تخم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بویا تھا جیسا کہ آپ نے فرمایا وہ تو پھل پھول رہا ہے۔ہاں قانونِ قدرت ہے کہ سر سبز اور پھلنے والے جو درخت ہوتے ہیں اُن میں بھی بعض دفعہ اگاؤ کا خشک ٹہنیاں نظر آنے لگ جاتی ہیں تو درخت کا جو مالک ہے وہ ایسی ٹہنیوں کو کاٹ کر پھینک دیتا ہے اور اس سے درخت کے پھل پھول لانے میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لگایا ہوا یہ سر سبز درخت جو ہے یہ تو صبر اور دعا کے پانی سے سینچا جارہا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ پھلتا پھولتا رہے گا۔جو شاخ بھی اس پانی سے فیض حاصل نہیں کرے گی، اُس کی حالت سوکھی ٹہنی کی طرح ہو گی اور وہ کٹ جائے گی ، کاٹ دی جائے گی۔پس ان حالات میں جبکہ احمدیت کی مخالفت میں جیسا کہ میں نے کہا تیزی آئی ہے اور مزید مخالفت بڑھ رہی ہے بلکہ بعض جگہ جہاں افریقین ممالک میں کم ہو گئی تھی، وہاں دوبارہ شروع ہوئی ہے۔تو صبر اور دعا کے ساتھ ہر احمدی اللہ تعالیٰ سے پہلے سے بڑھ کر مددمانگے اور اس سر سبز اور بڑھنے اور پھلنے اور پھولنے والے درخت کا حصہ بنار ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شماره 51 مورخہ 17 دسمبر تا 23 دسمبر 2010 صفحه 5 تا9)