خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 583
خطبات مسرور جلد ہشتم 583 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 نومبر 2010 صبر کی اہمیت اور ضرورت بلکہ صبر سے وہ ہر چیز برداشت کرتے چلے جاتے ہیں۔پس اگر صبر اور دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مددمانگتے رہو گے تو تم نہ صرف اپنے پر ہونے والے ظلموں سے نجات پاؤ گے بلکہ ان پر فتح بھی حاصل کرو گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی ایک شخص نے دعا کی درخواست کی اور بڑی پریشانی کا اظہار کیا کہ ایک مولوی جو ان کے گاؤں میں ایک سکول میں مدرس ہے اسے بڑی تکلیف دیتا ہے۔دعا کریں کہ اس کا وہاں سے تبادلہ ہو جائے۔اس پر یہ بات سن کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مسکرائے اور پھر فرمایا کہ: اس جماعت میں جب داخل ہوئے ہو تو اُس کی تعلیم پر عمل کرو۔اگر تکالیف نہ پہنچیں تو پھر ثواب کیونکر ہو۔پیغمبر خدا صلی علیم نے مکہ میں تیرہ (13) برس تک دکھ اٹھائے۔تم لوگوں کو اس زمانے کی تکالیف کی خبر نہیں اور نہ وہ تم کو پہنچیں ہیں۔مگر آپ نے صحابہ کو صبر ہی کی تعلیم دی“۔فرمایا کہ ”آخر کار سب دشمن فنا ہو گئے۔ایک زمانہ قریب ہے کہ تم دیکھو گے کہ یہ شریر لوگ بھی نظر نہ آئیں گے“۔اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ اس پاک جماعت کو دنیا میں پھیلائے۔اب اس وقت یہ لوگ تمہیں تھوڑے دیکھ کر دکھ دیتے ہیں مگر جب یہ جماعت کثیر ہو جائے گی تو یہ سب خود ہی چپ ہو جائیں گے۔اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو یہ لوگ دکھ نہ دیتے اور دکھ دینے والے پیدا نہ ہوتے مگر خدا تعالیٰ اُن کے ذریعہ سے صبر کی تعلیم دینا چاہتا ہے۔تھوڑی مدت صبر کے بعد دیکھو گے کہ کچھ بھی نہیں ہے۔جو شخص دکھ دیتا ہے یا تو توبہ کر لیتا ہے یا فنا ہو جاتا ہے۔کئی خط اس طرح کے آتے ہیں کہ ہم گالیاں دیتے تھے اور ثواب جانتے تھے لیکن اب تو بہ کرتے ہیں اور بیعت کرتے ہیں“۔فرمایا کہ ”صبر بھی ایک عبادت ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ صبر والوں کو وہ بدلے ملیں گے جن کا کوئی حساب نہیں ہے۔یعنی اُن پر بے حساب انعام ہوں گے۔یہ اجر صرف صابروں کے واسطے ہے۔دوسری عبادت کے واسطے اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ نہیں ہے۔جب ایک شخص ایک کی حمایت میں زندگی بسر کرتا ہے تو جب اسے دکھ پر دکھ پہنچتا ہے تو آخر حمایت کرنے والے کو غیرت آتی ہے اور وہ دکھ دینے والے کو تباہ کر دیتا ہے۔اسی طرح ہماری جماعت خدا تعالی کی حمایت میں ہے اور دکھ اٹھانے سے ایمان قوی ہو جاتا ہے۔صبر جیسی کوئی شیئے نہیں ہے۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 544-543۔جدید ایڈیشن) اور یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے 1902ء میں اس شخص کے سوال پر فرمائی۔اور اتفاق سے جب میں حوالے تلاش کر رہا تھا، تو وہ مہینہ بھی نومبر 1902ء کا مہینہ تھا۔ایک سو آٹھ سال پہلے آپ نے یہ بات فرمائی۔بہر حال اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی سچائی اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر کامل یقین کا اظہار کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں اس یقین کا اظہار ہے کہ میں