خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 582 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 582

582 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 نومبر 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم میں آجائیں۔ہمدردی کا لبادہ اوڑھ کر ان کو ورغلایا جائے۔مثالیں بھی دیتے ہیں کہ کون سا نبی ہے جس کو اتنا لمبا عرصہ تکلیفوں میں سے گزرنا پڑا یا جس کی جماعت کو اتنا لمبا عرصہ تکلیفوں میں سے گزرنا پڑا۔مثالیں تو ہر نبی کی موجود ہیں۔اگر انہوں نے قرآنِ کریم پڑھا ہو ، تاریخ کا کچھ علم ہو تو یہ مثالیں مل جاتی ہیں۔حضرت عیسی کے ماننے والوں کی مثال لے لیں۔تین سو سال سے زائد عرصے تک ان کو اپنی زندگیاں بعض علاقوں میں غاروں میں چھپ کر ہی گزارنی پڑیں۔بہر حال یہ مخالفین کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر قسم کے شیطانی حربے سے مومنوں کو ان کے ایمان سے ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ایسے لوگ اکا ؤ کاور غلا بھی لیتے ہیں لیکن مومنین کی اکثریت اپنے ایمان پر قائم رہتی ہے۔کسی قسم کا لالچ، کسی قسم کی تکلیف انہیں ایمان سے نہیں ہٹا سکتی اور پھر یہی نہیں بلکہ ان تکالیف پر انہیں نہ ہی نبی سے، نہ خدا سے کوئی شکوہ ہوتا ہے۔کیونکہ وہ صبر کے اعلیٰ نمونے دکھانے والے مومنین ہیں۔وہ صبر و استقامت کی اعلیٰ مثالیں قائم کرتے ہیں۔بعض دفعہ جیسا کہ میں نے کہا انسان ہے، بشر ہے ، اس کے ناطے پر یشانی ہوتی ہے ، اور ہر زمانے میں ہر نبی کے ماننے والے بعض دفعہ اس کا اظہار بھی کر دیتے ہیں۔ملہ کی زندگی میں ہجرت سے پہلے باوجود اس کے کہ آنحضرت صلی علی کلم کے صحابہ نے اپنی جان کی قربانیاں بھی پیش کیں۔ہر قسم کی سزائیں لیں۔تکالیف برداشت کیں۔اور ان کو برداشت کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے۔لیکن پھر بھی آنحضرت صلی للی کم کی خدمت میں سوال کر دیا۔اس لئے نہیں کہ ان کے ایمان کمزور تھے۔ایمان کے وہ لوگ بڑے مضبوط تھے۔اپنی پریشانی اور تکلیف کا اظہار آنحضرت صلی یکم کی خدمت میں کیا کہ ہم کب تک یہ برداشت کریں گے ؟ اور یہ بھی بعید نہیں کہ آنحضرت صلی کم کی تکلیف کو دیکھ کر یہ کہا ہو کہ کب تک آپ یہ تکلیفیں برداشت کرتے جائیں گے ؟ جب آپ سے سوال کیا گیا تو حضرت خباب بن الأرت بیان کرتے ہیں کہ ہم نے آنحضرت صلی اللی نام سے اپنی تکالیف کا ذکر کیا۔آپ کعبہ کے سائے میں چادر کو سرہانہ بنائے لیٹے ہوئے تھے۔ہم نے عرض کی کہ کیا آپ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ سے مدد نہیں مانگتے اور دعا نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ سختی کے یہ دن ختم کر دے۔اس پر آپ نے فرمایا: تم سے پہلے ایسا انسان بھی گزرا ہے جس کے لئے مذہبی دشمنی کی وجہ سے گڑھا کھودا جاتا اور اس میں اسے گاڑ دیا جاتا۔پھر آرا لایا جاتا اور اس کے سر پر رکھ کر اسے دو ٹکڑے کر دیا جاتا۔لیکن وہ اپنے دین اور عقیدے سے نہ پھر تا۔اور بعض اوقات لوہے کی کنگھی سے مومن کا گوشت نوچ لیا جاتا۔ہڈیاں اور پیٹھے ننگے کر دیئے جاتے۔لیکن یہ ظلم اس کو اپنے دین سے نہ ہٹا تا۔( صحیح بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوة في الاسلام حدیث نمبر 3612) یہ مثال آنحضرت صلی علی کرم نے اپنے صحابہ کے سامنے بیان فرمائی۔پس آپ نے ایک اصولی بات الہی جماعتوں کے متعلق ان ابتدائی صحابہ کو بھی سمجھا دی کہ یہ تکالیف آتی ہیں اور آئیں گی۔مخالفین کی طرف سے ظلموں کی انتہا بھی ہوتی ہے۔لیکن یہ ظلموں کی انتہا ان کو ان کے دین سے نہیں پھیرتی۔