خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 584 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 584

خطبات مسرور جلد ہشتم 584 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 نومبر 2010 یقیناً خدا تعالیٰ کا فرستادہ ہوں اور اس کی مدد آئے گی اور یقینا آئے گی۔اللہ تعالیٰ کی تمام تر تسلیوں اور پیش خبریوں کا نتیجہ تھا کہ آپ نے اس وثوق اور یقین سے یہ بات فرمائی۔گویا یہ بھی ایک پیشگوئی تھی۔اور آج ہم یہ امر روز روشن کی طرح ظاہر ہوتا دیکھ رہے ہیں جو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ اس پاک جماعت کو دنیا میں پھیلائے۔آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ جماعت دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔یہ لوگ ایک کوشش کرتے ہیں۔احمدیوں پر زیادتیاں کرنے والے ، ظلم کرنے والے تکلیفیں دینے کی کوشش کرتے ہیں، ظلم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔مثلاً پاکستان میں سکولوں اور کالجوں میں ہمارے احمدی بچوں کو ، بچیوں کو تنگ کیا جاتا ہے۔وہاں سے نکالنے کی کوشش ہوتی ہے۔کاروبار کرنے والوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔جان سے مارنے کی کوشش ہوتی ہے۔اور اس کے نتیجے میں کئی احمدی جو ہیں وہ شہید ہوئے۔لیکن ان سب کوششوں کے باوجود جماعت دنیا میں پھیل رہی ہے۔نہ صرف یہ مثلاً اگر طلباء کے ساتھ پاکستان میں ظلم ہو رہا ہے تو پاکستان سے باہر آکر بہت سے طلباء نے تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کی اور نہ صرف اس میں کامیابیاں حاصل کیں بلکہ جماعت کی تعلیم کے پھیلانے کا ذریعہ بھی بنے۔کاروبار والوں سے زیادتی کی تو یہ احمدی اپنے کاروبار باہر کی دنیا میں پھیلانے لگ گئے۔اور نہ صرف ان کے کاروبار پھیلے بلکہ احمدیت بھی متعارف ہوئی۔پھر شہادتیں ہیں، شہادتوں کی وجہ سے بعض احمدیوں کو ہجرت کرنا پڑی۔ان کے خاندانوں کو ہجرت کرنا پڑی۔اور اس کی وجہ سے بھی جماعت دنیا میں پھیل رہی ہے۔بلکہ جماعت کا پھیلنا تو الہی تقدیر ہے جس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ذکر فرمایا ہے۔احمدیوں پر مظالم کی وجہ سے جماعت زیادہ تیزی سے دنیا میں پھیل رہی ہے۔اور یہ مظالم جو ہیں جماعت کے پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں۔جماعت دنیا میں اس طرح متعارف ہو رہی ہے کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔باہر کی دنیا میں، یعنی پاکستان سے باہر کی دنیا میں بیعتوں کی تعداد ہر روز بڑھ رہی ہے۔پس جب یہ عمل شروع ہے اور جماعت پھیل رہی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی اور خدا تعالیٰ کے وعدے بڑی شان سے پورے ہو رہے ہیں تو انشاء اللہ تعالیٰ آپ کی یہ پیشگوئی بھی پوری ہو جائے گی کہ جب یہ جماعت کثیر ہو جائے گی تو یہ خود ہی بچپ ہو جائیں گے۔یہ بھی آپ کے الفاظ کے ساتھ ہے۔پس ہماری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ قلت کو کثرت میں بدلنے کے لئے بھر پور کوشش کریں۔ہماری کوشش کیا ہونی ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں ثواب میں حصہ دار بنانے کے لئے یہ فرماتا ہے کہ تبلیغ کرو، پیغام پہنچاؤ۔ورنہ جس طرح جماعت کے پھیلنے کی رفتار ہے اور جو نتائج ظاہر ہو رہے ہیں وہ کسی انسان کی کوشش کا نتیجہ نہیں ہو سکتے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ خط آتے ہیں کہ ہم توبہ کرتے ہیں اور جماعت میں شامل ہوتے ہیں۔وہی مخالفین جو پہلے دشمنیاں کرتے تھے اب خط لکھنے لگ گئے ہیں کہ ہم تو بہ کر کے جماعت میں شامل ہوتے ہیں۔اسی طرح آج تک یہ سلسلہ قائم ہے بلکہ مخالف علماء اور پادریوں تک میں یہ حرکت