خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 569
خطبات مسرور جلد ہشتم 569 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 نومبر 2010 آپ نے ہماری حقیر قربانی کو قبول کر لیا۔حالانکہ جیسا کہ میں نے بتایا بڑی بڑی خطیر رقمیں ہیں جو بعض لوگ دیتے ہیں۔اور صرف یہ نہیں کہ ایک آدھ دفعہ بلکہ اپنی زندگی کا مستقل طریق انہوں نے بنالیا ہے کہ تمام جاری تحریکات میں رقم دینے کے بعد پھر بڑی بڑی رقوم پیش کرتے ہیں کہ جہاں بھی خرچ کرنا چاہیں ، خرچ کر دیں۔تو جیسا کہ میں نے کہا، جن جگہوں پر ضرورت ہوتی ہے وہاں خرچ کیا جاتا ہے۔مساجد بنانے کے لئے، مشن ہاؤسز بنانے کے لئے یا دوسری ضروریات کے لئے یہ رقوم خرچ ہوتی ہیں۔اور یہ بڑی بڑی قربانیاں کرنے والے صرف پاکستانی یا ہندوستانی ہی نہیں ہیں، جن کی ایک لمبے عرصے کی تربیت ہے، بزرگوں کی اولاد ہیں اور تربیت کا حصہ چل رہا ہے۔بلکہ افریقہ میں رہنے والے بھی کئی ایسے ہیں جو بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں۔انہوں نے بڑی بڑی خوبصورت مساجد بنا کر پیش کی ہیں۔اور جماعت کے جو دوسرے متفرق پر اجیکٹس ہیں یا منصوبے ہیں، ان کے لئے خرچ دیتے ہیں۔اور یہ قربانی کرنے والے جس عاجزی اور خوشی کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں وہ صاف بتارہا ہو تا ہے کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے خرچ کرنے کے لئے بے چین ہیں۔یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں ان کے عین مطابق اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر کے پھر کبھی یہ اظہار بھی نہیں کرتے کہ ہم نے جماعت کو اتنے کروڑوں روپے دیئے ہیں یا ہم نے کوئی احسان کر دیا ہے۔بلکہ جیسا کہ میں نے کہا، انتہائی عاجزی سے پیش کر رہے ہوتے ہیں اور ان کو فکر ہوتی ہے کہ پتہ نہیں حق ادا بھی کیا ہے کہ نہیں۔خدا تعالیٰ کے شکر گزار ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا یہ احسان سمجھتے ہیں کہ اس نے اس قربانی کی توفیق انہیں دی۔یہاں اس بات کا اظہار بھی ضروری ہے کہ جماعت کی اکثریت تو کم آمدنی والوں کی ہے۔اور اوسط درجہ کے کمانے والوں پر مشتمل ہے۔وہ بھی جیسا کہ میں نے کہا غیر معمولی قربانیاں دینے والے ہیں اور کبھی اس بات کا اظہار نہیں کرتے کہ جماعت نے اتنی تحریکات شروع کی ہوئی ہیں ہماری آمدنی محدود ہے، کہاں سے دیں؟ بلکہ ایک دلی جوش اور جذبے سے یہ قربانیاں دیتے ہیں۔اور پھر کبھی اس بات کا اظہار نہیں کرتے کہ ہم نے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر یہ قربانیاں دی ہیں۔یا کبھی یہ خیال نہیں آیا یا کبھی مطالبہ نہیں کیا کہ کیونکہ ہماری یہ یہ قربانیاں ہیں اور اب ہمیں ضرورت ہے ، فلاں مقصد کے لئے ہمیں ضرورت ہے تو جماعت بھی ہمیں دے۔کسی قسم کا احسان نہیں ہو تا۔بلکہ اگر ضرورت بھی ہو تو انتہائی جھینپ اور عاجزی کے ساتھ خواہش کا اظہار کرتے ہیں اور وہ بھی قرضے کی صورت میں۔بعض لوگوں نے تو چندے دینے کے اپنے طریق اختیار کئے ہوئے ہیں تاکہ آسانیاں رہیں۔آمدنی کیونکہ محدود ہوتی ہے۔ایک وقت میں چندوں کی ادائیگی ہو نہیں سکتی تو بعض ایک ڈبہ بنالیتے ہیں اور اس میں ہر روز کچھ نہ کچھ ڈالتے رہتے ہیں۔اس سوچ کے ساتھ کہ تحریک جدید یا وقف جدید یا فلاں تحریک کا چندہ ادا کرنا ہے تو دے دیں گے۔کئی مثالیں ایسی ہیں۔مثلاً ایک صاحب نے مجھے لکھا کہ میں ڈبے میں سارا سال رقم جمع کرتا جارہا تھا