خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 568 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 568

خطبات مسرور جلد ہشتم 568 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 نومبر 2010 جائیں تو علاوہ جماعتی ترقی کے اپنی روحانی ترقی کے بھی سامان کر رہے ہوں گے۔گھروں میں جو میاں بیوی کے مسائل پیدا ہو رہے ہوتے ہیں یا بیوی کی طرف سے یہ شکوے ہو رہے ہوتے ہیں کہ اس نے میری فلاں خواہش کو پورانہ کرتے ہوئے مجھے فلاں چیز لے کر نہیں دی۔اور میاں کی طرف سے یہ اعتراض ہو رہا ہوتا ہے کہ میری بیوی اپنی چادر سے بڑھ کر پاؤں پھیلانے والی ہے، اس نے مجھے مقروض کر دیا ہے۔اور اس وجہ سے گھروں میں جو روز روز کی چخ چخ ہوتی ہے، لڑائیاں ہوتی ہیں اس نے جہاں گھروں کا سکون برباد کیا ہے وہاں بچوں کی تربیت پر بھی برا اثر پڑ رہا ہے۔پھر یہ اعتراض صرف عورتوں پر ہی نہیں ہے۔کئی معاملات میں نے دیکھے ہیں جس میں عورتوں کو اعتراض ہے کہ مرد جو کماتے ہیں، باہر دوستوں میں فضول خرچیاں کر کے آجاتے ہیں یا صرف اپنی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں اور گھروں کے اخراجات میں تنگی کرتے ہیں۔اور یہ بات پھر گھروں کی بے سکونی کا باعث بن جاتی ہے۔پس اگر اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے خرچ کیا جائے تو اس سے جہاں گھروں کے سکون قائم ہوں گے، بچوں کی تربیت بہتر رنگ میں ہو گی، وہاں آمد میں بھی برکت پڑے گی اور اللہ تعالیٰ کی خاطر قربانی کرنے کی طرف بھی توجہ پیدا ہو گی۔جماعت کے لئے قربانی کرنے کی طرف بھی توجہ پیدا ہو گی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنے مال پر اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا اور اگر کوئی اور کسی کے زیر کفالت ہے تو ان کا بھی حق ہے۔لیکن اگر اعتدال ہو ، اللہ تعالیٰ کی رضا سامنے ہو تو اپنے گھروں کے حقوق بھی ادا ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی طرف توجہ بھی رہتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں اوسط یا کم آمدنی والا ایک بہت بڑا طبقہ ہے جو اس اصل کو پکڑے ہوئے ہے۔اس پر عمل کرتا ہے کہ اپنے گھروں کے حقوق بھی ادا کرنے ہیں اور انفاق فی سبیل اللہ بھی کرنا ہے۔لیکن بعض لوگ جو بہت زیادہ کشائش رکھنے والے ہیں ، ان میں ایک حصہ ایسا بھی ہے جو اپنے حقوق تو ادا کرتا ہے، ان حقوق کے ادا کرنے کی فکر تو رہتی ہے لیکن ان کا قربانی کا معیار بہر حال کم آمدنی والوں کے معیار قربانی سے کم ہوتا ہے یا نسبتی لحاظ سے ان کے برابر نہیں پہنچتا۔لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ زیادہ آمدنی والا ہر کوئی شخص ایسا ہے۔ہر احمدی جو ہے وہ ایسا نہیں۔بعض کی مثال میں نے دی ہے۔میں ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں اور پہلے بھی کئی دفعہ ذکر کر چکا ہوں کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی کمائی میں سے اپنے لئے بہت کم حصہ رکھتے ہیں۔اور کروڑوں روپے یا ہزاروں ڈالر یا پاؤنڈ جماعتی تحریکات میں دے دیتے ہیں۔بلکہ پیچھے پڑ کر کہتے ہیں کہ ہم نے اتنی رقم دینی ہے جو ہم نے اس سال میں سے اس مقصد کے لئے بچت کی ہے ، بتائیں کہ وہ کہاں دیں۔تو پھر ان کو سوچ کر بتانا پڑتا ہے کہ اس سال فلاں جگہ دے دی جائے۔اس سال فلاں جگہ دے دی جائے یہاں ضرورت ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے وعدے اور چندے اور تحریکات میں حصہ لینے کے بعد زائد رقوم ادا کرتے ہیں۔تو ایسے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی تلاش میں رہتے ہیں۔اور پھر بھی فکر ہوتی ہے کہ پتہ نہیں ہم نے قربانی کا حق ادا کیا کہ نہیں۔ان کے شکریہ کے خطوط آتے ہیں کہ