خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 554
554 خطبات مسرور جلد ہشتم خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اکتوبر 2010 نہیں۔شروع میں درخواست دینی ضروری ہے۔اور انہی کا وقف قبول کیا جاتا ہے جو پہلے درخواست دیتے ہیں۔اور یہی پہلے دن سے وقف نو کے شعبے کا اصول رہا ہے۔یہاں صرف ایک بات کی میں وضاحت کر دوں کہ لوگ خط لکھتے ہیں۔وقف نو میں درخواست دیتے ہیں، اس میں اپنے بعض دوسرے مسائل بھی لکھ دیتے ہیں اور کیونکہ یہ شعبے جنہوں نے جواب دینے ہیں مختلف ہیں۔وقف نو کا جواب وقف نو کا شعبہ دے گا۔خط کے باقی حصے کا جواب دوسرے حصے نے دینا ہوتا ہے۔اس لئے وہ عورتیں اور مرد جو اپنے بچوں کے لئے وقف نو کے لئے لکھتے ہیں ، اگر انہوں نے اپنے خطوط میں دوسرے مسائل لکھنے ہوں تو وہ دوسرے خط میں علیحدہ لکھا کریں۔پھر یہ ہے کہ وقف نو بچے بچی کے جو والدین ہیں وہ خود درخواست کریں۔ان کے رشتے داروں کی درخواستیں جو ہیں وہ منظور نہیں ہوں گی۔دعا تو آپ نے اپنے بچوں کو وقف کرنے کے لئے کرنی ہے، اس لئے درخواست بھی خود دینی ہوگی۔کیونکہ تربیت اور تعلیم اور دعاسب آپ کی ذمہ داری ہے۔اور پھر یہ ہے کہ بعض علاقوں میں افریقہ وغیرہ میں جہاں بعض دفعہ پوری طرح ہدایات پر عمل نہیں ہو تا۔اول تو ان کا اپنے رجسٹروں میں ویسے نام لکھ لیا جاتا ہے کہ جی بچہ پیدا ہوا اس نے کہا وقف نو میں شامل کر لو، وقف نو ہو گیا۔جب تک مرکز کی طرف سے کسی کو وقف نو میں شامل ہونے کی کلیئرنس نہیں ملتی، کوئی بچہ وقف نو میں شامل نہیں ہو سکتا۔اور پیدائش کے بعد تو سوال ہی نہیں۔اور اسی طرح جو گود میں لینے والے بچے ہیں، اگر وہ اپنے عزیز رشتے داروں کے ہیں تو اس کی بھی ولادت کے وقت سے پہلے اطلاع ہونی چاہئے کہ بچہ وقف نو میں شامل کرنا ہے۔اور بے شک گود آپ نے لیا ہو کسی بھی زید یا بکر نے۔لیکن ولدیت میں اسی کا نام لکھا جائے گا جس کا وہ حقیقی بچہ ہے۔پھر پیدائش کے بعد یہ بھی لازمی ہے کہ والدین مرکزی ریکارڈ میں بچے کا اندراج کروائیں اور حوالہ نمبر درج کریں۔والدین بعض دفعہ لمبا عرصہ اندراج نہیں کرواتے اور اس کے بعد پھر یاد دہانی کے باوجود اندراج نہیں کرواتے اور پھر کئی سالوں کے بعد یہ شکایتیں لے کر آجاتے ہیں کہ ہمارے بچے کا ریکارڈ نہیں ہے۔تو یہ ذمہ داری بھی والدین کی ہے۔اسی طرح جب بچے پندرہ سال کی عمر کو پہنچ جائیں تو مقامی اور نیشنل سیکر ٹریان وقف نو ان کے وقف کی تجدید کروائیں۔پہلے بھی میں بتا چکا ہوں، بلکہ اب میں نے کہا ہے کہ جو یونیورسٹیوں، کالجوں میں پڑھ رہے ہیں وہ پڑھائی مکمل کرنے کے بعد بھی تجدید کریں۔کیونکہ اب اس ریکارڈ کو بہت زیادہ آپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے اور اس کو باقاعدہ رکھنے کی ضرورت ہے۔اس کے بغیر ہم آگے اپنی جو بھی سکیم ہے جماعت کی ضروریات ہیں ان کا اندازہ ہی نہیں کر سکتے۔اور نہ ہی ہمیں ان کا یہ پتہ لگ سکتا ہے کہ ہمیں کس کس شعبے میں کتنے لوگوں کی اب