خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 553
خطبات مسرور جلد ہشتم 553 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اکتوبر 2010 بتائے گا کہ کیا کام کرنا ہے ، کیا نہیں کرنا۔یا کیا آگے پڑھنا ہے یا پڑھائی مکمل کرنے کے بعد مرکز میں اپنی خدمات پیش کرنی ہیں۔خود ہی فیصلہ کرنا واقف نو کا کام نہیں ہے ، نہ ان کے والدین کا۔اگر خود فیصلہ کرنا ہے تو پھر بھی بتا دیں کہ میں نے یہ فیصلہ کیا ہے اور اب میں وقف تو میں رہنا نہیں چاہتا تا کہ اس کو وقف نو کی فہرست سے خارج کر دیا جائے۔گو کہ اب تک یہی ہدایت ہے کہ پندرہ سال کے بعد جب اپنا وقف کا فارم فل(Fill) کر دیا تو پھر واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے۔لیکن اب میں یہ راستہ بھی کھول دیتا ہوں۔تعلیم مکمل کر کے دوبارہ لکھیں اور یہ لکھوانا بھی تو سیکر ٹریان وقف نو کا کام ہے۔اور اس کی مرکز میں باقاعدہ اطلاع ہونی چاہئے کہ ہم نے یہ تعلیم مکمل کر لی ہے اور اب ہم اپنا وقف جاری رکھنا چاہتے ہیں یا نہیں رکھنا چاہتے۔پندرہ سال سے اوپر کی جو تعداد ہے اس کا تقریباً دس فیصد یعنی چودہ سو چھبیس کے قریب مختلف ممالک کے جامعہ احمدیہ میں واقفین کو پڑھ رہے ہیں۔یعنی نوے فیصد اپنی دوسری تعلیم حاصل کر رہے ہیں جو مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھ رہے ہیں یا پڑھائیاں چھوڑ بیٹھے ہیں یا کوئی پیشہ وارانہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔اس بارہ میں بھی باقاعدہ رپورٹ تیار ہونی چاہئے۔میرا نہیں خیال کہ نوے فیصد کے بارہ میں مرکز کو با قاعدہ آگاہ کیا گیا ہے کہ یہ واقفین نو بچے کیا کر رہے ہیں۔ان کی رپورٹ تیار ہو۔سیکر ٹریان وقف نو سے میں کہہ رہاہوں اور یہ رپورٹ مرکز میں بھجوائیں۔اسی طرح واقفین نو کے لئے، چاہے وہ جامعہ میں پڑھ رہے ہیں یا نہیں پڑھ رہے اور کوئی دنیاوی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، دینی تعلیم حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔اور ان کے لئے سلیبس بنایا گیا ہے۔پہلے پندرہ سال کے بچوں تک کے لئے تھا۔اب انیس سال تک کے لئے بنایا گیا ہے۔اس کو پڑھنا اور اس کا امتحان دینا بھی ضروری ہے۔اور یہ انیس سال والا بیس سال تک بھی extend کیا جا سکتا ہے۔تو اس میں شامل ہونا اور اس میں واقفین نو کے سیکر ٹریان کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ سو فیصد شمولیت ہو ، یہ بھی ضروری ہے۔اور پھر ان کے نتائج مرکز میں بھجوائے جائیں۔شعبہ وقف نو کی ہدایات مختلف اوقات میں یہاں مرکز سے بھی شعبہ وقف نو سے ہدایات جاتی رہتی ہیں۔ان کے بارہ میں بعض جماعتیں بلکہ اکثر جماعتیں جواب ہی نہیں دیتیں۔ان کی یاد دہانی کے لئے گو کہ بعض باتیں پہلے بھی آگئی ہیں لیکن جو سر کلر جاتے ہیں وہ میں دوبارہ آپ کے سامنے پیش کر دیتا ہوں۔مثلاً ایک ہدایت یہ ہے کہ وقف نو میں شمولیت کے لئے لازمی ہے کہ ولادت سے قبل والدین خود تحریری طور پر خلیفہ وقت کو درخواست دیں اور بعض دفعہ بعض لوگ بعد میں، پیدائش کے بعد درخواستیں بھیجتے ہیں کہ ہمیں بھول گیا تھا یا فلاں مجبوری ہو گئی تھی۔تو یہ ٹھیک