خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 552 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 552

خطبات مسرور جلد ہشتم 552 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اکتوبر 2010 چادر میں رہنا ہی ایک واقف زندگی کا کام ہے۔اور اس حوالے سے میں واقفین زندگی کی بیویوں کو بھی یہ کہوں گا کہ وہ بھی اپنے اندر قناعت پیدا کریں اور اپنے خاوندوں سے کوئی ایسا مطالبہ نہ کریں جو پورا نہ ہو اور واقف زندگی کو ابتلا میں ڈال دے۔پس جس عظیم کام کے لئے اور جس عظیم مجاہدے کے لئے واقفین زندگی خاص طور پر مبلغین اور مربیان نے اپنے آپ کو پیش کیا ہے، ان کی بیویوں کا بھی کام ہے کہ اس کام میں ، اس مجاہدے میں ان کی معاون بنیں۔ایک مبلغ اور مربی کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے۔مدرسہ احمدیہ کے اجراء کے وقت آپ نے فرمایا کہ یہ مدرسہ اشاعتِ اسلام کا ایک ذریعہ بنے اور اس سے ایسے عالم اور زندگی وقف کرنے والے لڑکے نکلیں جو دنیا کی نوکریوں اور مقاصد کو چھوڑ کر خدمت دین کو اختیار کریں، جو عربی اور دینیات میں تو غل رکھتے ہوں“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 618 جدید ایڈیشن ) یعنی علوم حاصل کرنے اور سمجھنے کی ان میں ایک لگن ہو۔اللہ تعالیٰ ہمارے مربیان مبلغین کو ان باتوں کو سامنے رکھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔واقفین ٹو کے سلسلہ میں بعض انتظامی باتیں بھی ہیں جو کہنا چاہتا ہوں۔واقفین نو کی ایک بڑی تعداد ایسے لڑکوں اور لڑکیوں پر مشتمل ہے جو دینی علم حاصل کرنے کے لئے جامعہ میں داخل نہیں ہوتے اور مختلف میدانوں میں جاتے ہیں۔یہ بہت بڑی تعداد ہے۔جماعت کو ایسے واقفین کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو مختلف فیلڈز میں جائیں اور جماعت کی خدمت کریں۔اس لئے پڑھائی کی ہر سٹیج پر واقفین نو کو مرکز سے مشورہ کرنا چاہئے کہ اب یہاں پہنچ گئے ہیں ہم آگے کیا کریں۔۔اب ہمارا یہ یہ ارادہ ہے۔کیا کرنا چاہئے؟ اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ساڑھے چودہ ہزار واقفین نو بچے بچیاں ہیں جو پندرہ سال سے اوپر ہو چکے ہیں۔کل تعداد تو چالیس ہزار ہے۔ایک تو اس عمر میں ان کو خود اپنے وقف کے فارم پُر کرنے چاہئیں کہ وہ وقف قائم رکھنا چاہتے ہیں یا نہیں۔یہ ہوش کی عمر ہے۔سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کریں کہ وقف کو قائم رکھنا ہے یا پھر وقف نہیں کرنا۔پہلے ماں باپ نے وقف کیا تھا اب واقف زندگی بچے نے ، وقف تو بچے نے خود کرنا ہے۔اگر وقف قائم رکھنا ہے تو مرکز کو اطلاع ہونی ضروری ہے اور پھر رہنمائی بھی لیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟ ہم جامعہ میں تو نہیں جارہے ، یہ یہ ہمارے شوق ہیں۔تعلیم میں ہمیں یہ دلچسپی ہے تو آپ ہماری رہنمائی کریں کہ ہم کونسی تعلیم حاصل کریں۔جیسا کہ میں نے کہا بے شک اپنے شوق بتائیں، اپنی دلچپسی بتائیں لیکن اطلاع کرناضروری ہے۔اور مختلف وقتوں میں پھر ان کی رہنمائی ہوتی رہے گی۔جیسا کہ میں نے کہا کہ سیکر ٹریان وقف ٹو کو بھی فعال ہونے کی ضرورت ہے۔اور اگر یہ فعال ہوں گے تو پھر متعلقہ جماعتوں کے اپنے واقفین نو بچوں سے معلومات لے کر مرکز کو اطلاع بھی کریں گے اور پھر مرکز یہ