خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 551
خطبات مسرور جلد ہشتم 551 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اکتوبر 2010 میدانِ عمل میں سوائے گھبر اجانے کے اور کچھ نہیں ہو گا۔اور بعض تو بد قسمتی سے یہ سن کر ہی کہ بعض دفعہ ان کی ٹرانسفر کی گئی تو وقف ختم کر دیا اور وقف سے پیچھے ہٹ گئے۔اس لئے ابھی سے اپنے آپ کو تیار کریں کہ ہمیں یہ سب قسم کی سختیاں برداشت کرنی ہیں۔اور جامعہ میں پڑھنے والوں سے میں خاص طور پر یہ کہہ رہا ہوں کہ ابھی سے ان سختیوں کے بارے میں سوچ لیں۔آج کل واقفین ٹو میں سے ایک بڑی تعداد ( تعداد کے لحاظ سے تو ایک اچھی تعداد ہے لیکن واقفین نو کی نسبت کے لحاظ سے نہیں) جو مختلف ملکوں کے جامعہ احمدیہ میں پڑھ رہی ہے انہیں ہمیشہ پہلے اپنے والدین کے عہد کو ، پھر اپنے عہد کو اور اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی توقعات کو سامنے رکھنا چاہئے ، اور ان باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد کو پورا کرنے کی بھر پور کوشش کرنی چاہئے۔یہ وفا کا مظاہرہ ہے جو ہر واقف زندگی کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔یہ بھی یادر کھیں کہ مربی اور مبلغ کا ایک وقار ہے جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا، اس لئے عاجزی دکھائیں۔بیشک عاجزی تو مبلغ کے لئے ضروری ہے لیکن وقار کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔اپنی ضرورت، اپنی خواہش کا اظہار کسی کے سامنے نہ کریں۔جیسا کہ حضرت مولوی صاحب نے بھی نصیحت کی ہے کہ اپنی ضروریات کو ہمیشہ خدا کے سامنے پیش کرو۔اور یہ میرا اپنا ذاتی تجربہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ ضروریات پوری کرتا ہے۔گھانا میں میدان میں رہا ہوں۔بڑے مشکل حالات تھے۔جو مانگنا ہے خدا تعالیٰ سے مانگیں۔تنگی ترشی برداشت کر لیں، لیکن اپنے وقار کو کبھی نہ گرائیں۔اور یہ باتیں صرف نئے آنے والوں کو نہیں کہہ رہا بلکہ پرانوں کو بھی جو میدانِ عمل میں ہیں انہیں بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے۔بعض دفعہ بھول جاتے ہیں یا بعض دفعہ دنیا داروں کو دیکھ کر خواہشات بڑھ جاتی ہیں۔ہر مربی جماعت کی نظر میں، مرکز کی نظر میں، افراد جماعت کی نظر میں خلیفہ وقت کا نمائندہ ہے۔پس کوئی ایسی حرکت نہیں ہونی چاہئے جس سے اس نمائندگی پر حرف آتا ہو۔بعض دفعہ بیوی بچوں کی وجہ سے مجبور ہو کر بعض ضروریات کا اظہار ہو جاتا ہے۔جماعت اپنے وسائل کے لحاظ سے حتی الامکان واقف زندگی کو سہولت دینے کی کوشش کرتی ہے اور کرنی چاہئے۔لیکن جس طرح دنیا میں معاشی بد حالی بڑھ رہی ہے ، غریب ممالک میں خاص طور پر براحال ہو جاتا ہے۔باوجو د کوشش کے مہنگائی کا مقابلہ مشکل ہو جاتا ہے۔لیکن ایک مربی کا ایک واقف زندگی کا وقار اسی میں ہے کہ کسی کے سامنے اپنی مشکلات کا ذکر نہ کرے۔جو رونا ہے خدا تعالیٰ کے آگے روئیں، اس سے مانگیں۔میں نے پہلے بزرگوں کی جو مثالیں دی ہیں، آج بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسی قربانیاں موجود ہیں۔لیکن بعض بے صبرے بھی ہوتے ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا وقف بھی توڑ جاتے ہیں۔دوسروں کو دیکھ کر جب اپنی خواہشات کو پھیلایا جائے تو پھر یہ حال ہو جاتا ہے۔اس سے مشکلات مزید بڑھتی ہیں۔جب آپ اپنے ہاتھ ، خواہشات کو دوسروں پر نظر رکھتے ہوئے پھیلاتے ہیں تو یاوقف توڑ دیں گے یا پھر مقروض ہو جائیں گے۔پس اپنی