خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 524 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 524

خطبات مسرور جلد ہشتم 524 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 اکتوبر 2010 اور جو نشانات اللہ تعالیٰ نبی اور اس کی جماعت کی تائید میں دکھاتا ہے، جو ظاہر ہو رہے ہیں اور ہوتے ہیں، ان کو دیکھ کر یہ یقین بھی ان لوگوں کے دل میں بیٹھ جاتا ہے کہ ان لوگوں نے غالب آہی جانا ہے۔اس لئے دشمنی اور ظلم میں بڑھتے چلے جاتے ہیں تا کہ کسی نہ کسی طرح انہیں ختم کر دیں۔کبھی جادو گر کہہ کر روکیں ڈالی جاتی ہیں، کبھی کچھ کہہ کر روکیں ڈالی جاتی ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کے زمانے میں یا اس کی جماعت کی ترقی کے زمانہ میں جو مذہبی جبہ پوش ہیں یہ بھی تائیدات اور نشانات دیکھ کر گمان کرنے لگ جاتے ہیں کہ ہمارے تو منبروں کو خطرہ پیدا ہو گیا ہے اس لئے ظاہری طور پر بھی بھر پور مخالفت کی کوشش کرتے ہیں اور ظلم اور تعدی میں حد سے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔جھوٹ اور فریب میں اتنے بڑھ جاتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے سچ اور جھوٹ کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔اور مذہب کے نام پر خون کر کے اپنے منبروں کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔پس یہ مخالفت ان کے دلوں کے خوف کی وجہ سے ہوتی ہے۔اور اس وجہ سے ہوتی ہے کہ ان کو نظر آ رہا ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے اب غالب آنا ہی آنا ہے۔ایسے لوگوں کو چاہے وہ حکومتیں ہوں یا منبروں کے نام نہاد مالک، جب اپنی کرسیاں اور منبر نیچے سے نکلتے نظر آئیں تو وہ الہبی جماعتوں کی مخالفت میں اور زیادہ تیزی پیدا کر دیتے ہیں اور ہر قسم کے اخلاق اور قانون کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔اگر ان کو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کی کامیابی اور نشان پر یقین نہ ہو تو ان کو اتنی منظم مخالفت کرنے کی کیا ضرورت ہے۔پس یہ منظم مخالفت جب بھی ہو تو یہ مخالفین کے اس یقین کا اظہار کر رہی ہوتی ہے کہ ہم تو اب گئے کہ تب گئے۔یہ تو کئی لوگ اپنی مجلسوں میں بیٹھ کر تسلیم بھی کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت بظاہر احمدیوں کے ساتھ لگتی ہے۔بظاہر نہیں، بلکہ حقیقت میں ہے۔اب پاکستان میں یا اور ملکوں میں جہاں مذہبی رہنما اور حکومت مل کر جماعت کے خلاف منظم کوشش کر رہے ہیں ان کے متعلق بعض جگہوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ جس طرح یہ جماعت ترقی کر رہی ہے اور جو باتیں یہ بتاتے ہیں وہ باتیں تو سچی ہیں لیکن اگر یہ باتیں ہم نے عوام میں آسانی سے جانے دیں اور ان کا عوام میں نفوذ ہو گیا تو پھر یا درکھو کہ ہماری کرسیاں بھی جائیں گی اور نام نہاد اماموں کی اما متیں بھی جائیں گی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ فرما کر کہ دیکھو فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوتا ہے ؟ انبیاء کے مخالفین کے انجام کی طرف نشاندہی فرما دی ہے کہ جس طرح ان کے فتنہ اور فساد اور علو اور ظلم اور دولت اور طاقت ان کو نہیں بچاسکی تھی آئندہ بھی کسی حد سے بڑھے ہوئے کو اور الہی جماعتوں کے مخالفین کو یہ چیزیں نہیں بچاسکتیں۔پس آج میں پھر کہتا ہوں کہ جو بظاہر آفات اور مصائب سے محفوظ ہیں یا اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں وہ بھی محفوظ نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ایک جگہ فرماتا ہے کہ استِكْبَارًا فِي الْأَرْضِ وَ مَكْرَ السَّيِّئُ وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَى إِلَّا بِأَهلِهِ فَهَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا سُنَتَ الْأَوَّلِينَ ، فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلًا ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تَحوِیلا (فاطر : 44) کہ ان کے زمین میں تکبر کرنے اور برے مکر کرنے کی وجہ سے۔اور بُری تدبیر b