خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 525
خطبات مسرور جلد ہشتم 525 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 اکتوبر 2010 نہیں گھیر تی مگر خود صاحب تدبیر کو۔(یعنی کہ بری تدبیریں ان تدبیر کرنے والوں کو ہی گھیرتی ہیں)۔پس کیا وہ پہلے لوگوں پر جاری ہونے والی اللہ تعالیٰ کی سنت کے سوا کوئی اور انتظار کر رہے ہیں۔پس تو ہر گز اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں پائے گا اور تو ہر گز اللہ کی سنت میں کوئی تغیر نہیں پائے گا۔پس کیا یہ تکبر ، بڑائی، اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کے خلاف مکر ، کامیاب ہو گا؟ نہیں ہو گا، ہر گز نہیں ہو گا۔اللہ تعالیٰ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے۔یہ پرانے انبیاء کے قصے ہمیں قرآن کریم میں صرف قصے کہانیوں کے لئے نہیں سنائے جار ہے بلکہ اس لئے کہ عبرت حاصل کرو اور اپنے اندر خدا تعالیٰ کا خوف پیدا کر و۔اور خدا کے بھیجے ہوئے سے ٹکر لے کر اس کے ماننے والوں پر ظلم اور سفاکی کی داستانیں رقم کرنے والوں کا حصہ نہ بنو اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تَبْدِيلًا وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تَحْوِيلًا (فاطر :44) پس تو ہر گز اللہ تعالیٰ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں پائے گا اور تو ہر گز اللہ کی سنت میں کوئی تغیر نہیں پائے گا، پر غور کرو۔کاش کہ یہ لوگ سمجھ جائیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں دعاؤں کی توفیق بھی دے اور دنیا کے حق میں ہماری دعائیں قبول بھی فرمائے کہ یہ تباہی کے گڑھے میں گرنے سے اور تباہ ہونے سے بچ جائیں۔اپنے لئے بھی دعا کرتے رہیں کہ ہم صبر اور حوصلے سے ہمیشہ دعائیں کرتے رہیں اور وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ کے حقیقی مصداق بن کر فتح اور نصرت کے نظارے دیکھنے والے ہوں۔آخر پر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس پیش کروں گا۔آپ فرماتے ہیں : یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنے اس سلسلہ کو بے ثبوت نہیں چھوڑے گا۔وہ خود فرماتا ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا“۔جن لوگوں نے انکار کیا اور جو انکار کے لئے مستعد ہیں ان کے لئے ذلت اور خواری مقدر ہے۔انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ اگر یہ انسان کا افترا ہوتا تو کب کا ضائع ہو جاتا کیونکہ خدا تعالیٰ مفتری کا ایساد شمن ہے کہ دنیا میں ایسا کسی کا دشمن نہیں۔وہ بیوقوف یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ کیا یہ استقامت اور جرآت کسی کذاب میں ہو سکتی ہے۔وہ نادان یہ بھی نہیں جانتے کہ جو شخص ایک غیبی پناہ سے بول رہا ہے وہی اس بات سے مخصوص ہے کہ اس کے کلام میں شوکت اور ہیبت ہو۔اور یہ اسی کا جگر اور دل ہوتا ہے کہ ایک فرد تمام جہان کا مقابلہ کرنے کیلئے طیار ہو جائے۔یقیناً منتظر رہو کہ وہ دن آتے ہیں بلکہ نزدیک ہیں کہ دشمن روسیاہ ہو گا اور دوست نہایت ہی بشاش ہوں گے۔کون ہے دوست ؟ وہی جس نے نشان دیکھنے سے پہلے مجھے قبول کیا اور جس نے اپنی جان اور مال اور عزت کو ایسا فدا کر دیا ہے کہ گویا اس نے ہزار ہانشان دیکھ لئے ہیں۔سو یہی میری جماعت ہے اور میرے ہیں جنہوں نے مجھے اکیلا پایا اور میری مدد کی۔اور مجھے غمگین دیکھا اور میرے