خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 523
523 خطبات مسرور جلد ہشتم خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 اکتوبر 2010 مشہور ہیں۔شروع میں ان لوگوں سے ربوہ کو بھی بڑا محفوظ کرنا پڑا تھا۔میں بتارہا تھا کہ ایک دفعہ باتوں میں ان کا ایک آدمی پنجابی میں کہنے لگا کہ یہ جو ہمارے لغو قسم کے کام ہیں، جو برائیاں ہیں، پنجابی میں کہتا ہے کہ ان کاموں میں جتھے تہاڑے سیانے دی عقل ختم ہوندی اے ساڈے کملے دی شروع ہوندی اے“ یعنی یہ برائیوں والے کام ایسے ہیں کہ تم لوگ جو مہاجر ہو جہاں تمہارے عقلمند کی عقل ختم ہو گی وہاں سے ہمارے بیوقوف کی عقل شروع ہوتی ہے۔اتنے ماہر ہیں ہم۔ہمارا تو ان سے مقابلہ ہو ہی نہیں سکتا۔ہم تو اس مقابلہ میں اس فتنہ وفساد میں ان کے بیوقوفوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ان میں سے بھی جو لوگ احمد کی ہو رہے ہیں اب لگتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کی وجہ سے ان میں بھی ایک پاک تبدیلی ہو رہی ہے اور وہی کملے جو ان کاموں میں شیر تھے وہ احمدی ہونے کے بعد کافی بہتر ہو رہے ہیں۔دوسرے ہمارا خدا تعالیٰ پر یقین ہے جس کا وعدہ ہے کہ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ کہ انجام متقیوں کا ہی ہے۔اس کا ایک تو یہ مطلب ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے وہاں داؤ پیچ، فتنہ وفساد کے نمبر نہیں ملیں گے۔ہاں اگر پوچھا جائے گا تو تقویٰ کے بارہ میں پوچھا جائے گا کیونکہ یہ تقویٰ ہی ہے جو خدا تعالیٰ تک پہنچتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُم (الحج:38)۔اسے تمہارا تقویٰ ہی پہنچے گا اور تقویٰ میں بڑھنے سے ہی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بخشش کے سامان ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس میں بڑھائے۔دوسرے الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِین کا واضح مطلب یہ بھی ہے کہ الہی جماعتوں کی کامیابی اور فتوحات داؤ پیچ ، فتنہ وفساد، بڑائی اور علو سے حاصل نہیں ہونے۔بلکہ عاجزی اور انکساری دکھانے والے اور ہر حال میں اللہ کی رضا چاہنے والے جو لوگ ہیں یہی انشاء اللہ تعالیٰ فتح کے نظارے دیکھیں گے۔پس یہ ظلم، یہ فساد، یہ سرکشیاں عارضی ہیں اور تیزی سے اپنے انجام کو پہنچ رہی ہیں۔دنیا میں بڑے بڑے فرعون پیدا ہوئے، بڑے بڑے ظالم اور جابر پید اہوئے، بڑے بڑے طاقتور پیدا ہوئے لیکن سب ختم کر دیئے گئے۔وہ گروہ جو الہی جماعتوں کے مقابلہ پر کھڑ ا ہوتا ہے ، وہ کھڑا ہی اس لئے ہوتا ہے کہ اسے یقین ہوتا ہے کہ یہ لوگ جو آہستہ آہستہ بڑھ رہے ہیں ایک وقت میں ہماری بالا دستی ختم کر دیں گے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کیونکہ یہ لوگ دنیا دار ہوتے ہیں اس لئے ان کی سوچ اس بات سے آگے جاتی ہی نہیں اور نہ جاسکتی ہے کہ اگر احمدی پھیلتے چلے گئے تو ہماری حکومت پر قبضہ ہو جائے گا۔حالانکہ الہی جماعتوں کا مقصد بندے کا خدا تعالیٰ سے تعلق جوڑنا ہے۔اور یہی مقصد لے کر اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے۔یہ فرعون صفت لوگ جنہوں نے اپنی حکومت کو اور اپنی طاقت کو ہی خدا بنا کر عوام کے سامنے پیش کیا ہوتا ہے ان کو خطرہ ہوتا ہے کہ اگر یہ بندے خدا والے بن گئے تو ہماری جو مزعومہ خدائی ہے وہ تو ختم ہو جائے گی۔