خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 34 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 34

خطبات مسرور جلد ہشتم 34 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2010 رکھی ہے کہ اللہ پر ایمان کے ساتھ عمل صالح ضروری ہے۔پس ہمیشہ اپنے مد نظر یہ بات رکھنی چاہئے کہ کون سا عمل صالح ہے اور کون سا غیر صالح ہے۔بعض بظاہر چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں۔مثلاً خوشیاں ہیں۔یہ دیکھنے والی بات ہے کہ خوشیاں منانے کے لئے ہماری کیا حدود ہیں اور غموں میں ہماری کیا حدود ہیں۔خوشی اور غمی انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے اور دونوں چیزیں ایسی ہیں جن میں کچھ حدود اور قیود ہیں۔آج کل دیکھیں، مسلمانوں میں خوشیوں کے موقعوں پر بھی زمانے کے زیر اثر طرح طرح کی بدعات اور لغویات راہ پاگئی ہیں اور غموں کے موقعوں پر بھی طرح طرح کی بدعات اور رسومات نے لے لی ہے۔لیکن ایک احمدی کو ان باتوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جو کام بھی وہ کر رہا ہے اس کا کسی نہ کسی رنگ میں فائدہ نظر آنا چاہئے۔اور ہر عمل اس لئے ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی علی ایم نے جو حدود قائم کی ہیں ان کے اندر رہتے ہوئے ہر کام کرنا ہے۔معاشرے کی بدر سومات میں نے خوشی اور غمی کا جو ذکر کیا ہے تو خوشیوں میں ایک خوشی جو بہت بڑی خوشی سمجھی جاتی ہے وہ شادی کی خوشی ہے اور یہ فرض ہے۔جب بعض صحابہ نے یہ کہا کہ ہم خدا تعالیٰ کی عبادت کی خاطر اپنی زندگیاں تجرد میں گزاریں گے ، شادی نہیں کریں گے تو آنحضرت صلی یم نے اسے برا منایا اور فرمایا کہ نیکی وہی ہے جو میری سنت پر عمل کرتے ہوئے اور تعلیم کے مطابق کی جائے۔اور میں نے تو شادیاں بھی کی ہیں۔روزے بھی رکھتا ہوں۔عبادات بھی کرتا ہوں۔(بخاری کتاب النکاح باب الترغیب فی النکاح حدیث نمبر 5063) اور آپ کی عبادات کا جو معیار ہے وہ تو تصور سے بھی باہر ہے۔پس یہ مسلمانوں کے لئے ایک فرض ہے کہ اگر کوئی روک نہ ہو، کوئی امر مانع نہ ہو تو ضرور شادی کرے۔لیکن ان میں بعض رسمیں خاص طور پر پاکستانی اور ہندوستانی معاشرہ میں راہ پاگئی ہیں جن کا اسلام کی تعلیم سے کوئی بھی تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔اب بعض رسوم کو ادا کرنے کے لئے اس حد تک خرچ کئے جاتے ہیں کہ جس معاشرہ میں ان رسوم کی ادا ئیگی بڑی دھوم دھام سے کی جاتی ہے وہاں یہ تصور قائم ہو گیا ہے کہ شاید یہ بھی شادی کے فرائض میں داخل ہے اور اس کے بغیر شادی ہو ہی نہیں سکتی۔مہندی کی ایک رسم ہے۔اس کو بھی شادی جتنی اہمیت دی جانے لگی ہے۔اس پر دعوتیں ہوتی ہیں۔کارڈ چھپوائے جاتے ہیں۔سٹیج سجائے جاتے ہیں اور صرف یہی نہیں بلکہ کئی دن دعوتوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور شادی سے پہلے ہی جاری ہو جاتا ہے۔بعض دفعہ کئی ہفتہ پہلے جاری ہو جاتا ہے۔اور ہر دن نیا سٹیج بھی سج رہا ہو تا ہے اور پھر اس بات پر بھی تبصرے ہوتے ہیں کہ آج اتنے کھانے پکے اور آج اتنے کھانے پکے۔یہ سب رسومات ہیں جنہوں