خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 33
33 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل بجالائے اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالے۔اور جو اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ اسے (ایسی) جنتوں میں داخل کرے گا جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں۔وہ ان میں ہمیشہ ہمیش رہنے والے ہیں۔(ہر) اس (شخص) کے لئے (جو نیک اعمال بجالا تا ہے) اللہ نے بہت اچھار زق بنایا ہے۔آنحضرت علی الم کا اسوہ پس اگر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے تو پھر آنحضرت علی ایم کے اسوہ اور آپ پر اتری ہوئی تعلیم کی پابندی کرنا بھی لازمی ہے۔اس تعلیم پر پابندی اور آپ کے اسوہ پر چلنے کی کوشش ہی اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنے گی۔اس نور سے حصہ پانے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ کی بھی شرط رکھی ہے۔صرف ایمان لانا ہی کافی نہیں ہے۔ایک مومن کو اعمال صالحہ کی طرف بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔فسق و فجور سے بچنے کی ضرورت ہے۔جو آیت میں نے پہلے شروع میں تلاوت کی تھی اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ اللہ پر ایمان، اس کے رسول پر ایمان اور قرآن کریم پر ایمان ہی نور سے حصہ دلانے والا بنے گا، جنت کا وارث بنائے گا۔اللہ تعالیٰ انسان کے ہر عمل سے باخبر ہے۔اس کے علم میں ہے کہ انسان کون سے اعمال اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے بجالا رہا ہے۔اُسوہ رسول اور تعلیم پر کس حد تک عمل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ایمان کا دعویٰ دل سے ہے یا صرف زبانی باتیں ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے جو انسانوں پر احسان کیا کہ ایک ایسا نبی مبعوث فرمایا جس کی تعلیم پر عمل کرنے سے ہی دنیا و آخرت میں انسان کی بقا ہے تو ان لوگوں کا جو مومن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں کس قدر یہ فرض بنتا ہے کہ اپنے اوپر اس تعلیم کو لاگو کریں جو کامل اور مکمل تعلیم ہے۔اور پھر اللہ تعالیٰ کا جاری احسان دیکھیں کہ وَ أَخَرِينَ مِنْهُمُ (الجمعة:4) کی خبر دے کر یہ تسلی بھی کروائی کہ آنحضرت صلی الی یوم اور قرآن کریم کا فیضان جو فیضان نور ہے یہ جاری ہے۔اندھیرے زمانہ کے بعد آنحضرت صلی ال نیم کے عاشق صادق اور آپ مصلی تعلیم کے نور سے سب سے زیادہ حصہ پانے والے جس امام اور مسیح و مہدی نے آنا ہے اس کے ذریعہ پھر اندھیروں سے نور کی طرف راہنمائی ہو گی۔آنے والے مسیح موعود اور مہدی موعود نے پھر اُمت کو بھی اور باقی دنیا کو بھی اعتقادی اور عملی اندھیروں سے نکالنا ہے اور جو اس کے ساتھ جڑ جائے گا، جو اسے قبول کرے گا، جو اس سے سچا تعلق رکھے گا، جو دنیا کی لغویات سے بچتے ہوئے اس سے کئے گئے عہد کی پابندی کرے گا وہ پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرتے ہوئے جنتوں کی خوشخبری سنے گا۔پس ایک احمدی کو جہاں اس بات سے تسلی ہوتی ہے وہاں فکر بھی ہے۔اپنے جائزے لینے کی ضرورت بھی ہے۔اس نور سے فائدہ اٹھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے يُؤْمِنُ بِاللهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا (التغابن: 10) کی شرط