خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 35
خطبات مسرور جلد ہشتم 35 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2010 نے وسعت نہ رکھنے والوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور ایسے لوگ پھر قرض کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔غیر احمدی تو یہ کرتے ہی تھے اب بعض احمد کی گھرانوں میں بھی بہت بڑھ بڑھ کر ان لغو اور بیہودہ رسومات پر عمل ہو رہا ہے یا بعض خاندان اس میں مبتلا ہو گئے ہیں۔بجائے اس کے کہ زمانہ کے امام کی بات مان کر رسومات سے بچتے۔معاشرہ کے پیچھے چل کر ان رسومات میں جکڑتے چلے جارہے ہیں۔چند ماہ پہلے میں نے اس طرف توجہ دلائی تھی کہ مہندی کی رسم پر ضرورت سے زیادہ خرچ اور بڑی بڑی دعوتوں سے ہمیں رکنا چاہئے۔تو اس دن یہاں لندن میں بھی ایک احمدی گھر میں مہندی کی دعوت تھی۔جب انہوں نے میر اخطبہ سناتو انہوں نے دعوت کینسل (Cancel) کر دی اور لڑکی کی چند سہیلیوں کو بلا کر کھانا کھلا دیا اور باقی جو کھانا پکا ہو اتھاوہ یہاں بیت الفتوح میں ایک فنکشن (Function) تھا اس میں بھیج دیا۔تو یہ ہیں وہ احمدی جو توجہ دلانے پر فوری رد عمل دکھاتے ہیں اور پھر معذرت کے خط بھی لکھتے ہیں۔لیکن مجھے بعض شکایات پاکستان سے اور ربوہ سے بھی ملی ہیں۔بعض لوگ ضرورت سے زیادہ اب ان رسموں میں پڑنے لگ گئے ہیں اور ربوہ کیونکہ چھوٹا سا شہر ہے اس لئے ساری باتیں فوری طور پر وہاں نظر بھی آجاتی ہیں۔اس لئے اب میں کھل کر کہہ رہا ہوں کہ ان بیہودہ رسوم و رواج کے پیچھے نہ چلیں اور اسے بند کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک مرتبہ فرمایا کہ : ”ہماری قوم میں یہ بھی ایک بدرسم ہے کہ شادیوں میں صد ہاروپیہ کا فضول خرچ ہوتا ہے“۔( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 70) آج سے سو سال پہلے یا اس سے زیادہ پہلے اس زمانے میں تو صد ہاروپیہ کا خرچ بھی بہت بڑا خرچ تھا۔لیکن آج کل تو صد با کیا لا کھوں کا خرچ ہوتا ہے اور اپنی بساط سے بڑھ کر خرچ ہوتا ہے۔جو شاید اس زمانے کے صدبا روپوں سے بھی اب زیادہ ہونے لگ گیا ہے۔بلکہ یہ بھی فرمایا کہ آتش بازی وغیرہ بھی حرام ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد پنجم صفحہ 49 جدید ایڈیشن) شادیوں پر آتش بازی کی جاتی ہے۔اب لوگ اپنے گھروں میں چراغاں بھی شادیوں پر کرتے ہیں اور ضرورت سے زیادہ کر لیتے ہیں۔ایک طرف تو پاکستان میں ہر طرف یہ شور پڑا ہوا ہے ہر آنے والا یہی بتاتا ہے، اخباروں میں بھی یہی آرہا ہے کہ بجلی کی کمی ہے۔کئی کئی گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے۔اور دوسری طرف بعض گھر ضرورت سے زیادہ اسراف کر کے نہ صرف ملک کے لئے نقصان کا باعث بن رہے ہیں بلکہ گناہ بھی مول لے رہے ہیں۔اس لئے پاکستان میں عموماً احمدی اس بات کی احتیاط کریں کہ فضول خرچی نہ ہو اور ربوہ میں خاص طور پر اس بات کا لحاظ رکھا جائے۔اور ربوہ میں یہ صدر عمومی کی ذمہ داری ہے کہ اس بات کی نگرانی کریں کہ شادیوں پر بے جا اسراف اور دکھاوا اور اپنی شان اور پیسے کا جو اظہار ہے وہ نہیں ہونا چاہئے۔جماعت پر اللہ