خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 437 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 437

خطبات مسرور جلد ہشتم 437 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اگست 2010 جلتے ہیں جو اس چرچ نے کئے ہیں۔اور جیسا کہ میں نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابل پر کوئی نہیں ٹھہر سکا۔افسوس کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس عظیم کام کو دیکھتے ہوئے جس کی بعض مسلمان لیڈروں نے تعریفیں بھی کی ہیں، بجائے اس کے کہ مسلمان آپ کے گرد جمع ہوتے ، جبکہ آنحضرت صلی علیکم نے بھی یہ حکم فرمایا تھا کہ مسیح موعود کے آنے پر میر اسلام اسے پہنچانا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 3 صفحہ 182 مسند ابی ھریرۃ حدیث نمبر 7957 مطبوعہ بیروت ایڈیشن 1998) اکثریت آپ کی مخالفت میں لگ گئی۔یہ سب بھی ایمان بالغیب کی نفی ہے۔اور یہ مخالفت شدت پسندوں اور نا انصاف حکومتوں کی وجہ سے اپنی شدت کا رنگ اختیار کرتی چلی جارہی ہے۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بھی عقل دے اور وہ اس عاشق رسول اور عاشق قرآن اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآنِ کریم کی حفاظت پر مامور کے پیغام کو سن کر اس کے مددگار بنیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی توفیق دے کہ ہم بھی اپنی تمام استعدادوں کے ساتھ اس جری اللہ کے سلطان نصیر بنیں اور قرآن کریم کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے کا باعث بنیں۔احمدیوں پر مظالم کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی گرفت میں نے دشمنوں کا ذکر کیا ہے تو آج پھر ان ظالموں کے ظلموں کی دو افسوس ناک خبریں ہیں۔اس ہفتہ میں صوبہ سندھ میں دو شہاد تیں ہوئی ہیں۔ایک کراچی میں اور دوسری سانگھڑ میں۔یہ لوگ نہیں دیکھ رہے کہ ظلموں کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی تقدیر کیا دکھلا رہی ہے۔خود تسلیم کر رہے ہیں اور اخباروں میں لکھ رہے ہیں۔کالم آرہے ہیں کہ ہماری غلطیوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا عذاب ہم پر آرہا ہے۔لیکن ان غلطیوں کی نشاندہی غلط طریقوں پر کر رہے ہیں، ان کی آنکھوں پر اس قدر پر دے پڑگئے ہیں کہ مجھے کسی نے بتایا کہ ایک جگہ کچھ بد فطرت مُلاں یہ وعظ کر رہے تھے کہ ہم نے قادیانیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے پوری طرح کوشش نہیں کی اس لئے یہ عذاب ہم پر آیا۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔احمدی تو انشاء اللہ تعالیٰ اس امتحان سے گزر جائیں گے لیکن اے بد فطرت مُلاؤ! تم جو ظلموں کی تعلیم خدا اور رسول کے نام پر دے رہے ہو، تم جو قرآن کریم کی تعلیم کا مذاق اڑا رہے ہو تو تم ضرور خدا تعالیٰ کی پکڑ میں آؤگے۔بعض لوگ مجھے یہ بھی لکھ دیتے ہیں اور کہتے بھی ہیں کہ میری باتیں جب میں بعض دفعہ ملاؤں کو مخاطب کر کے کہتا ہوں تو وہ ان کو اور بھڑکاتی ہیں اور مجھے نہیں کرنی چاہئیں۔ہمارے بعض معصوموں کی یہ غلط فہمی ہے۔اس لئے میں تو اپنوں کو بھی سمجھانا چاہتا ہوں کہ جو منصوبے انہوں نے بنائے ہوئے ہیں ان کا میرے کہنے یانہ کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ان کے خوفناک منصوبے ہیں کہ احمدیوں کے خلاف پاکستان میں کیا کچھ کرنا ہے اور باہر بھی کوششیں کرتے ہیں ، کر رہے ہیں۔میں تو اس لئے بھی کہتا ہوں کہ شاید میری باتیں کسی شریف النفس کو