خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 438 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 438

438 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اگست 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم شرا لناس سے قوم کو ہوشیار کرنے کے کام آجائیں۔بہر حال ہمارا کام تو صبر ، استقامت اور دعا سے اپنی منزل کی طرف سے رواں دواں رہنا ہے اور یہ ہم انشاء اللہ کرتے چلے جائیں گے۔اور ان دنوں میں احمد کی خاص طور پر خدا تعالیٰ کے آستانے پر اس طرح جھکیں کہ بس اسی کے ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ دشمنوں کے ہر شر ان پر الٹائے اور ہر احمدی کو اللہ تعالیٰ اپنی حفاظت میں رکھے۔اور ہم اللہ تعالیٰ کے انعامات کے وارث بنتے چلے جائیں۔جن دو شہادتوں کا میں نے ذکر کیا ہے ان میں ایک کراچی کے ڈاکٹر نجم الحسن صاحب شہید ہیں۔آپ 16 اگست کو رات تقریباً ساڑھے گیارہ بجے اپنے کلینک واقعہ اور نگی ٹاؤن سے واپس جانے کے لئے جب گاڑی میں بیٹھ رہے تھے تو کسی نا معلوم شخص نے فائرنگ کر دی۔آپ کو قریبی ہسپتال میں لے جایا گیا لیکن زخموں کی تاب نہ لا کر شہادت پاگئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْن۔سنا ہے کہ ان کے سینے پر تیرہ گولیاں لگی تھیں۔ڈاکٹر نجم الحسن شہید کا آبائی تعلق بہار کے ایک شہر بھاگلپور سے تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دور میں بھاگلپور سے مکرم محمود عالم صاحب قادیان تشریف لے گئے اور وہاں بیعت کا شرف حاصل کیا۔انہی کے ذریعے بھاگلپور میں احمدیت کا نفوذ ہوا۔ڈاکٹر صاحب کے دادا مخدوم الحسن صاحب اور مکرم مولوی عبد المساجد صاحب بھاگل پوری خلافت ثانیہ کے دور میں احمدیت میں داخل ہوئے۔1956ء میں ان کا خاندان بھاگلپور سے ہجرت کر کے ڈھاکہ آ گیا۔1971ء میں جب بنگلہ دیش بنا تو ڈاکٹر صاحب شہید کے والدین ہجرت کر کے چند سال انڈیا اور نیپال میں رہے۔پھر 1975ء میں کراچی منتقل ہو گئے۔ڈاکٹر نجم الحسن صاحب کی پیدائش 1971ء میں ڈھاکہ میں ہوئی تھی۔آپ سات بھائی اور ایک بہن ہیں۔اپنے بہن بھائیوں میں ڈاکٹر صاحب دوسرے نمبر پر تھے۔اپنی تمام تعلیم پرائمری سے لے کر چائلڈ سپیشلسٹ بننے تک کراچی میں ہی حاصل کی۔سندھ میڈیکل کالج سے M۔B۔B۔S کیا۔F۔C۔P۔S کیا۔اپنی پریکٹس بھی کر رہے تھے اور ڈاؤ یونیورسٹی میں بچوں کے شعبے کے ہیلتھ سائنسز کے اسسٹنٹ پروفیسر بھی تھے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔روز مرہ کے معمول کے مطابق ہی یہ اپنی کلینک سے باہر نکلے ہیں اور گاڑی سٹارٹ کی ہے تو نا معلوم افراد نے آکر ان پر فائرنگ کر دی۔قریب ہی ان کے بھائی کی میڈیکل سٹور کی دکان تھی ، وہ جب باہر آئے ہیں تو دیکھا کہ ڈاکٹر صاحب خون میں لت پت تھے۔ڈاکٹر صاحب کی عمر ساڑھے انتالیس سال تھی۔ایک نڈر اور بے خوف شخصیت کے مالک تھے۔کئی دفعہ آپ کے خسر نے انہیں کہا بھی کہ یہاں سے کلینک تبدیل کر لیں۔لیکن ڈاکٹر صاحب نے ہمیشہ یہی جواب دیا کہ اسی علاقہ میں پلا بڑھا ہوں۔اس علاقے کے لوگوں کا مجھ پر حق ہے۔اس لئے میں ان کی خدمت کے لئے یہیں پریکٹس کروں گا۔خدام الاحمدیہ کے کیمپس میں بھی وقت دیا کرتے تھے۔لیکن لوگ حق ادا کرنا نہیں چاہتے ہیں۔جو نافع الناس لوگ ہوتے ہیں ان کو بھی ظالمانہ طریق پر ختم کر دینے سے یہ نہیں چوکتے۔آپ نے کبھی کہیں اپنی احمدیت کو نہیں چھپایا۔