خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 436 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 436

خطبات مسرور جلد ہشتم 436 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اگست 2010 کریم کی پیشگوئی کہ میں نے یہ کتاب اتاری اور میں اس کی حفاظت کروں گا۔) فرمایا ” اور جس زمانہ میں کسی پہلو پر مخالفوں کی طرف سے زیادہ زور دیا گیا تھا اسی کے مطابق خدا تعالیٰ کی غیرت اور حمیت نے مدافعت کرنے والا پیدا کیا ہے لیکن یہ زمانہ جس میں ہم ہیں یہ ایک ایسا زمانہ تھا جس میں مخالفوں نے ہر چہار پہلو کے رو سے حملہ کیا تھا اور یہ ایک سخت طوفان کے دن تھے کہ جب سے قرآنِ شریف کی دنیا میں اشاعت ہوئی ایسے خطر ناک دن اسلام نے کبھی نہیں دیکھے۔بد بخت اندھوں نے قرآن شریف کی لفظی صحت پر بھی حملہ کیا اور غلط ترجمے اور تفسیریں شائع کیں۔بہتیرے عیسائیوں اور بعض نیچریوں اور کم فہم مسلمانوں نے تفسیروں اور ترجموں کے بہانہ سے تحریف معنوی کا ارادہ کیا اور بہتوں نے اس بات پر زور دیا کہ قرآن اکثر جگہ میں علوم عقلیہ اور مسائل مسلّمہ مثبتہ طبعی اور ہیئت کے مخالف ہے ”۔( بعض ایسے ثابت شدہ مسائل جو طبیعات اور ہیئت دانوں کے ہیں اس کے مخالف ہیں)۔فرمایا اور نیز یہ کہ بہت سے دعاوی اس کے عقلی تحقیقاتوں کے بر عکس ہیں اور نیز یہ کہ اس کی تعلیم جبر اور ظلم اور بے اعتدالی اور نا انصافی کے طریقوں کو سکھلاتی ہے۔اور نیز یہ کہ بہت سی باتیں اس کی صفاتِ الہیہ کے مخالف اور قانونِ قدرت اور صحیفہ فطرت کے منافی ہیں اور بہتوں نے پادریوں اور آریوں میں سے ہمارے نبی صلی الی یکم کے معجزات اور قرآن کریم کے نشانوں اور پیش گوئیوں سے نہایت درجہ کے اصرار سے انکار کیا اور خدا تعالیٰ کی پاک کلام اور دین اسلام اور ہمارے نبی صلی للی نام کی ایک ایسی صورت کھینچ کر دکھلائی اور اس قدر افتراء سے کام لیا جس سے ہر ایک حق کا طالب خواہ نخواہ نفرت کرے۔لہذا اب یہ زمانہ ایسا زمانہ تھا کہ جو طبعا چاہتا تھا کہ جیسا کہ مخالفوں کے فتنہ کا سیلاب بڑے زور سے چاروں پہلوؤں پر حملہ کرنے کے لئے اٹھا ہے ایسا ہی مدافعت بھی چاروں پہلوؤں کے لحاظ سے ہو اور اس عرصہ میں چودھویں صدی کا آغاز بھی ہو گیا۔اس لئے خدا نے چودھویں صدی کے سر پر اپنے وعدہ کے موافق جو إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَ اِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ ہے اس فتنہ کی اصلاح کے لئے ایک مجدد بھیجا۔مگر چونکہ ہر ایک مجدد کا خدا تعالیٰ کے نزدیک ایک خاص نام ہے اور جیسا کہ ایک شخص جب ایک کتاب تالیف کرتا ہے تو اس کے مضامین کے مناسب حال اس کتاب کا نام رکھ دیتا ہے۔ایسا ہی خدا تعالیٰ نے اس مجد د کا نام خدمات مفوضہ کے مناسب حال مسیح رکھا کیونکہ یہ بات مقرر ہو چکی تھی کہ آخر الزمان کے صلیبی فتنوں کی مسیح اصلاح کرے گا۔پس جس شخص کو یہ اصلاح سپر د ہوئی ضرور تھا کہ اس کا نام مسیح موعود رکھا جائے۔پس سوچو کہ يَكْسِرُ الصلیب کی خدمت کس کو سپر د ہے ؟ اور کیا اب یہ وہی زمانہ ہے یا کوئی اور ہے۔سوچو خدا تمہیں تھام لے“۔چرچ کے اعتراض ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 288-290) جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا تھا آج چرچ نے جو اعتراض کئے ہیں یہ پرانے اعتراض ہیں جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے اس اقتباس میں سو سال پہلے ہی بیان کر دیا تھا۔وہ اعتراض تقریباً اس سے ملتے