خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 434
خطبات مسرور جلد ہشتم 434 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اگست 2010 بهم (الجمعة) (4) اور ایک دوسری قوم میں سے بھی وہ اسے بھیجے گا جو ابھی ان سے نہیں ملے۔پس یہاں یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ آنحضرت صلی نیلم نے فرمایا ہے کہ جو نشانات نہیں دیکھیں گے ان کے ایمان قابل تعریف ہیں بلکہ یہ اس عرصے کی طرف اشارہ ہے جو آپ کی پیشگوئی کے مطابق ہی اندھیرے زمانے کا عرصہ تھا جب مسلمانوں میں وسیع پیمانے پر روحانیت کو آگے بڑھانے کے لئے، مسلمانوں کی تربیت کے لئے کوئی بڑا وسیع نظام نہیں تھا۔ہاں چھوٹی چھوٹی جگہوں پر مسجد دین تھے جو اپنے کام کر رہے تھے یا وہ لوگ ہیں جن تک بعد میں بھی اللہ تعالیٰ کے آئے ہوئے فرستادے کا پیغام نہیں پہنچا۔ان کی اگر ایمانی حالت پھر بھی قائم رہتی ہے تو یہ لوگ وہ ہیں جنہوں نے ایمان بالغیب کی صحیح حفاظت کی ہے۔اور جو ایمان بالغیب کی صحیح حفاظت کرنے والے ہیں وہ پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہوئے کو اس کی نشانیاں دیکھ کر پہچانتے بھی ہیں اور قبول بھی کرتے ہیں۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللی علم پر جو ایمان لائے تھے انہوں نے کوئی نشانات نہیں مانگے تھے۔بہت ا سارے ایسے تھے جو ایمان بالغیب پر ہی یقین رکھتے تھے۔(ماخوذاز ملفوظات جلد 2 صفحہ 644) صرف آپ کی ظاہری حالت دیکھ کر ان کو یقین تھا کہ جو کچھ آپ نے کہا ہے وہ سچ ہے۔اور پھر مسیح و مہدی کے آنے کے ساتھ یہ نشانات کا دور شروع ہو گیا۔یہ بھی پیشگوئی تھی کہ نشانات کا دور شروع ہو گا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ یہ نشانات دیکھ رہی ہے۔اور ایمان بالغیب کی وجہ سے اس یقین پر بھی قائم ہے کہ جو وعدے اور پیشگوئیاں ہیں جو اب تک ہمیں نظر نہیں آر ہیں وہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ پوری ہوں گی۔ہم شیطان کے حملوں اور وسوسوں کو اپنی نمازوں کی خوبصورتی سے ادا ئیگی اور دوام اختیار کرتے ہوئے دور کرتے چلے جائیں گے۔اور شیطان کے وسوسے کبھی ہمارے پائے ثبات کو ہلا نہیں سکتے۔شیطان کے چیلوں کا تمام زور اس زمانے میں احمدیوں کو اپنے ایمان میں کمزور کرنے پر صرف ہو رہا ہے۔لیکن ہم تو اب اس حالت میں آچکے ہیں کہ جب نشانات بھی سامنے نظر آرہے ہیں اور اگر کوئی ابتلاؤں کا دور ہے تو یہ بھی پہلے سے ہی قرآنِ کریم کی پیشگوئیاں ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہوا ہے۔الہی جماعتوں کے لئے یہ ابتلاء آتے ہیں اور زمانے کے امام نے ہمیں اس کے لئے تیار کیا ہوا ہے۔اور جیسا کہ میں نے کہا ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ رمضان کی برکتوں سے فیض اٹھائیں۔اس میں دعاؤں کے ذریعہ سے، اپنی نمازوں کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کا قرب پانے اور اپنے ایمانوں میں مضبوطی کی دعائیں بھی کرنی چاہئیں۔اور اللہ تعالیٰ سے اس کے وعدے پورے ہونے کے لئے دعاؤں سے مدد مانگنی چاہئے۔یہ مہینہ جو دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ بھی ہے اس میں جب ہم خدا تعالیٰ سے قرآنِ کریم کی حکومت اور اس کی عظمت اور تمام دنیا میں اس کی حکومت کے قیام کی دعا مانگ رہے ہوں گے تو یقیناً خدا تعالیٰ اپنے زور آور حملوں سے نشانات