خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 435
خطبات مسرور جلد ہشتم 435 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اگست 2010 کا ایک نیا سلسلہ اور دور شروع فرمائے گا۔اور قرآن کریم کی تعلیم اپنی تمام تر عظمتوں کے ساتھ حق کے قیام اور باطل کے فرار کے نظارے ہمیں دکھائے گی۔لوگ زمانے کے امام آنحضرت صلی علیہ یکم کے عاشق صادق اور خدا تعالیٰ کے فرستادے کی آواز سننے کی طرف توجہ دیں گے۔جو عین قرآنی تعلیم کے مطابق دنیا کو ہدایت اور حق کی طرف دعوت دے رہا ہے۔آج اگر کوئی حفاظت قرآن کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھڑا ہے تو وہ یہی مسیح موعود ہے۔اور آج اگر کوئی جماعت یہ کام احسن رنگ میں سر انجام دے سکتی ہے اور دے رہی ہے تو وہ جماعت احمدیہ ہے۔جس کے لئے ہمیں پہلے سے بڑھ کر کمر بستہ ہونے کی ضرورت ہے۔جس کے لئے ہمیں اپنی دعاؤں میں شدت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ورنہ ہم اپنے فرائض سے کوتاہی کر رہے ہوں گے یا کوتاہی کرنے والے بن رہے ہوں گے۔پس ہر احمدی کا فرض ہے کہ قرآنِ کریم کی تعلیم کی عملی تصویر بننے کے لئے اپنی استعدادوں کے لحاظ سے بھی بھر پور کر شش کرے۔حفاظت قرآن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : قرآن شریف میں یہ وعدہ تھا کہ خدا تعالیٰ فتنوں اور خطرات کے وقت میں دین اسلام کی حفاظت کرے گا۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے اِنا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ ( الحجر :10)۔سو خدا تعالیٰ نے بموجب اس وعدہ کے چار قسم کی حفاظت اپنی کلام کی کی۔اول: حافظوں کے ذریعہ سے اس کے الفاظ اور ترتیب کو محفوظ رکھا اور ہر ایک صدی میں لاکھوں ایسے انسان پیدا کئے جو اس کی پاک کلام کو اپنے سینوں میں حفظ رکھتے ہیں۔ایسا حفظ کہ اگر ایک لفظ پو چھا جائے تو اس کا اگلا پچھلا سب بتا سکتے ہیں اور اس طرح پر قرآن کو تحریف لفظی سے ہر ایک زمانہ میں بچایا۔دوسرے: ایسے ائمہ اور اکابر کے ذریعہ سے جن کو ہر ایک صدی میں فہم قرآن عطا ہوا ہے۔جنہوں نے قرآنِ شریف کے اجمالی مقامات کی احادیث نبویہ کی مدد سے تفسیر کر کے خدا کی پاک کلام اور پاک تعلیم کو ہر ایک زمانہ میں تحریف معنوی سے محفوظ رکھا۔تیسرے: متکلمین کے ذریعہ سے جنہوں نے قرآنی تعلیمات کو عقل کے ساتھ تطبیق دے کر ( عقل کے مطابق کر کے یا عقلی دلیلوں کے ساتھ ) خدا کی پاک کلام کو کو نہ اندیش فلسفیوں کے استخفاف سے بچایا ہے۔چوتھے : روحانی انعام پانے والوں کے ذریعہ سے جنہوں نے خدا کی پاک کلام کو ہر ایک زمانہ میں معجزات اور معارف کے منکروں کے حملہ سے بچایا ہے“۔فرماتے ہیں کہ ”سو یہ پیشگوئی کسی نہ کسی پہلو کی وجہ سے ہر ایک زمانہ میں پوری ہوتی رہی ہے“( قرآنِ