خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 433 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 433

خطبات مسرور جلد ہشتم 433 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اگست 2010 اور رسول اللہ صل الم کی رسالت سے روگر دان نہ کر لے۔وہ وساوس پر وساوس ڈالتا رہتا ہے۔لاکھوں کروڑوں انسان انہیں وسوسوں میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب کر لیں پھر دیکھا جائے گا۔باوجود اس کے کہ انسان کو اس بات کا علم نہیں کہ ایک سانس کے بعد دوسر اسانس آئے گا بھی یا نہیں؟ “ (مطلب یہ کہ دل میں جو وسوسہ پیدا ہو ا ہے یا غلط خیال پیدا ہوا ہے وہ کر لو دیکھا جائے گا۔پھر بعد میں اصلاح ہو جائے گی)۔فرمایا کہ لیکن شیطان ایساد لیر کرتا ہے کہ وہ بڑی بڑی جھوٹی امید میں دیتا اور سبز باغ دکھاتا ہے۔شیطان کا یہ پہلا سبق ہو تا ہے ، مگر متقی بہادر ہوتا ہے اس کو ایک جرآت دی جاتی ہے کہ وہ ہر وسوسہ کا مقابلہ کرتا ہے۔اس لئے يُقِيمُونَ الصَّلوۃ فرمایا، یعنی اس درجہ میں وہ ہارتے اور تھکتے نہیں اور ابتدا میں اُنس اور ذوق اور شوق کا نہ ہونا ان کو بے دل نہیں کرتا۔وہ اسی بے ذوقی اور بے لطفی میں بھی نماز پڑھتے رہتے ہیں۔یہاں تک کہ سب وساوس اور اوہام دور ہو جاتے ہیں۔شیطان کو شکست ملتی اور مومن کامیاب ہو جاتا ہے۔غرض منتقی کا یہ زمانہ ستی کا زمانہ نہیں ہو تا بلکہ میدان میں کھڑے رہنے کا زمانہ ہوتا ہے۔وساوس کا پوری مردانگی سے مقابلہ کرے“۔الحکم جلد 5 نمبر 6 مورخہ 17 فروری 1901ء صفحہ 1 تا2) نمازوں کی طرف توجہ پس ان دنوں میں جب ہر ایک کو نمازوں کی طرف بھی توجہ پیدا ہوئی ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسجدیں بھی بھری ہوئی ہیں۔شیطان کے ساتھ مقابلے میں پوری طاقت صرف کر دینی چاہئے۔جب یہ صورت پیدا ہو گی کہ شیطان کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ سے مدد چاہ رہے ہوں گے۔خدا تعالیٰ سے مضبوط تعلق پیدا کرنے کی طرف قدم بھی اٹھ رہے ہوں گے۔جب خدا تعالیٰ سے مضبوط تعلق بھی بڑھیں گے۔جب یہ کوشش ہو گی تب ان ہدایت کے راستوں کی طرف بھی رہنمائی ملے گی جو خدا تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں بیان فرمائے ہیں۔ہدایت کے وہ راستے نظر آئیں گے جو اپنے ساتھ روشن نشان رکھتے ہیں۔یہاں یہ بات بھی یادر ہے کہ ایمان بالغیب کا تقاضا ہے کہ ان تمام پیشگوئیوں پر بھی یقین رکھا جائے جو اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں بیان فرمائی ہیں۔اور جب نمازوں میں توجہ ہو گی۔ایمان بالغیب کے ساتھ عملی صورت کا اظہار ہو گا جس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ذکر فرمایا ہے۔یعنی نمازوں کا قیام اور اس میں شیطان کے حملوں سے بچنے کی دعائیں، تو پھر یہ دعا بھی ہو رہی ہو گی کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ایمان بالغیب کی حالت کو نشانات کے ساتھ مزید مضبوط بھی کر دے۔اللہ تعالیٰ پر ایمان یہ تقاضا کرتا ہے اور ایک مومن اس کے لئے دعا کرتا ہے کہ جس طرح تیرے فرستادے پہلے زمانے کی اصلاح اور ہدایت کے لئے تیری طرف سے مبعوث ہوتے تھے اب بھی ہوں۔کیونکہ زمانے کی حالت یہ تقاضا کر رہی ہے کہ کسی فرستادے کی ضرورت ہے۔قرآنِ کریم نے ہی یہ پیشگوئی بھی فرمائی تھی کہ وَ أَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا