خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 432 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 432

خطبات مسرور جلد ہشتم 432 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اگست 2010 و متقی کی حالت میں چونکہ رویت باری تعالیٰ اور مکالمات و مکاشفات کے مراتب حاصل نہیں ہوتے اس لئے اس کو اول ایمان بالغیب ہی کی ضرورت ہوتی ہے۔اور وہ تکلف کے طور پر ایمانی درجہ ہوتا ہے کیونکہ قرائن قویہ کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لاتا ہے جو بین الشک والیقین ہوتا ہے“ (کہ شک اور یقین کے درمیان یہ چیزیں ہوتی ہیں)۔فرمایا کہ " منتقی اللہ تعالیٰ کو مان لیتا ہے اور اس پر ایمان لاتا ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُؤْمِنُونَ بالغیب“۔فرمایا کہ ”یہ مت سمجھو کہ یہ ادنی درجہ ہے یا اس کا مرتبہ کم ہے “۔پھر فرماتے ہیں ”یہ ایمان بالغیب متقی کے پہلے درجہ کی حالت اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑی وقعت رکھتی ہے۔حدیث صحیح میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی علیکم نے صحابہ سے پوچھا کہ جانتے ہو سب سے بڑھ کر ایمان کس کا ہے ؟ صحابہ نے عرض کی کہ حضور آپ کا ہی ہے۔آپ نے فرمایا کہ میرا کس طرح ہو سکتا ہے، میں تو ہر روز جبریل کو دیکھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کے نشانات کو ہر وقت دیکھتا ہوں۔پھر صحابہ نے عرض کی کہ کیا ہمارا ایمان ؟ پھر آپ نے فرمایا کہ تمہارا ایمان کس طرح تم بھی تو نشانات دیکھتے ہو۔آخر خود رسول کریم ملی علیم نے فرمایا کہ جو لوگ صد ہا سال کے میرے بعد آئیں گے ان کا ایمان عجیب ہے کیونکہ وہ کوئی بھی ایسا نشان نہیں دیکھتے جیسے تم دیکھتے ہو مگر پھر بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں۔غرض خدا تعالیٰ متقی کو اگر وہ اسی ابتدائی درجہ میں مر جاوے ، تو اسی زمرہ میں داخل کر لیتا ہے“۔فرماتے ہیں کہ ”اس لذت اور نعمت سے ابھی اس نے کچھ بھی نہیں پایا“۔(جو نشانات دیکھ کر ملتی ہے)۔لیکن پھر بھی وہ ایسی قوت دکھاتا ہے کہ نہ صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان ہی رکھتا ہے بلکہ اس ایمان کو اپنے عمل سے بھی ثابت کرتا ہے۔یعنی یقیمُونَ الصلوۃ۔عمل یہ ہے کہ نمازوں پر قائم ہو جاتے ہیں۔فرمایا کہ تقویٰ کی اس حالت میں نمازوں میں بھی وسوسے ہوتے ہیں اور قسم قسم کے وہم اور شکوک پیدا ہو کر خیالات کو پراگندہ کرتے ہیں۔باوجود اس کے بھی وہ نماز نہیں چھوڑتے اور نہیں تھکتے اور ہارتے۔بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ چند روز نماز پڑھی اور ظنونِ فاسدہ اور خیالات پراگندہ دل میں گزرنے لگے “۔بدظنیاں پیدا ہونے لگ گئیں۔گندے خیالات آنے لگ گئے۔”نماز چھوڑ دی اور ہار کر بیٹھ رہے۔مگر متقی اپنی ہمت نہیں ہارتا۔وہ نماز کو کھڑی کرتا، نماز گری پڑتی ہے ، وہ بار بار اسے کھڑی کرتا ہے۔تقویٰ کی حالت میں دو زمانے متقی پر آتے ہیں۔ایک ابتلا کا زمانہ دوسرا اصطفا کا زمانہ۔ابتلا کا زمانہ اس لئے آتا ہے کہ تا تمہیں اپنی قدر و منزلت اور قابلیت کا پتہ مل جائے اور یہ ظاہر ہو جائے کہ کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر راستبازوں کی طرح ایمان لاتا ہے۔اس لئے کبھی اس کو وہم اور شکوک آکر پریشان دل کرتے ہیں۔کبھی کبھی خدا تعالیٰ ہی کی ذات پر اعتراض اور و ہم پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔صادق مومن کو اس مقام پر ڈرنا اور گھبر انانہ چاہئیے بلکہ آگے ہی قدم رکھے “۔فرمایا کہ ”شیطان پلید کا کام ہے کہ وہ راضی نہیں ہو تا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے منکر نہ کرالے