خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 431
خطبات مسرور جلد ہشتم 431 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اگست 2010 آج بھی یہی حقیقت ہے کہ قرآنِ کریم پر غور کرنا تو ایک طرف اکثریت قرآنِ کریم پڑھنے کی طرف بھی توجہ نہیں دیتی۔اور نام نہاد علماء کے اس بات پر ورغلانے سے ان کے پیچھے چل پڑے ہیں کہ قرآنِ کریم کہتا ہے کہ آنحضرت صلی علی کنم خاتم النبیین ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔کاش کہ یہ غور کریں اور ہم سے پوچھیں کہ کیا دعویٰ ہے ؟ حق کو پہچاننے کی جستجو کریں۔ان کے پاس دلیل نہیں ہے اس لئے علماء نے جماعت پر پاکستان میں خاص طور پر اور باقی مسلم ملکوں میں بھی ہر جگہ پابندی لگائی ہے۔مسلمانوں کو یہ کہا جاتا ہے کہ ان کی بات سننا بھی کفر ہے بلکہ یہاں تک کہتے ہیں کہ ان سے سلام کرنا بھی کفر ہے۔وہی شدت پسندی اگر عیسائی دکھا رہے ہیں تو یہاں احمدیوں کے بارہ میں مسلمان بھی دکھا رہے ہیں۔بلکہ عمومی طور پر ایک بہت بڑا گر وہ، ایک طبقہ ایسا ہے جو شدت پسندی کا اظہار کر رہا ہے تو عیسائیوں کو بھی جرآت پیدا ہوئی ہے۔پس یہ تو ان لوگوں کی حالت ہے۔مسلمانوں کو اپنے آپ پہ اتنا بھی یقین نہیں ہے کہ اگر احمدی غلط ہیں تو ان کی بات کو رڈ کر دیں۔کیا یہ اتنے خوفزدہ ہیں ، اپنے ایمانوں کو اتنا کمزور دیکھتے ہیں کہ احمدی سے بات کریں گے تو ان کے ایمان کمزور ہو جائیں گے اور اسلام چھوڑ دیں گے۔بہر حال یہ تو ان کے علماء کی باتیں ہیں جن کے پیچھے چل کر عامتہ المسلمین جو ہیں وہ بھی اپنی دنیا و عاقبت خراب کر رہے ہیں۔اسی طرح ہم جو احمدی ہیں ہمارا بھی فرض ہے کہ اپنا حق ادا کریں۔ہمارا بھی فرض ہے کہ ان ہدایات کے راستوں کا عملی نمونہ بنہیں جو قرآنِ کریم میں بیان کی گئی ہیں۔پس رمضان کا یہ مہینہ جو اللہ تعالیٰ نے ہماری روحانی حالتوں کی بہتری اور قرآن کریم پر عمل اور غور کرنے کے لئے ہمیں پھر میسر فرمایا ہے اس سے ہمیں بھر پور فائدہ اٹھانا چاہئے اور پوری کوشش کرنی چاہئے۔اور بھر پور فائدہ تبھی اٹھایا جاسکتا ہے جب ہم اس کی روزانہ با قاعدگی سے تلاوت بھی کرنے والے ہوں۔اس کے احکامات پر غور کرنے والے ہوں۔ان پر عمل کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں۔اس کے لئے کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ نے بعض حکم دیئے ہیں کہ ان کو بجالاؤ، بعض نیکیاں ہیں ان کو کرنے کا حکم دیا ہے جن سے ہدایت کے راستے ملتے ہیں۔بعض برائیاں ہیں ان سے کہا ہے کہ بچو تو ان راستوں پر چل سکو گے جو منزلِ مقصود تک لے جانے والے راستے ہیں۔اور ایک مومن کی منزلِ مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا کے علاوہ اور کیا ہو سکتی ہے؟ ہدایت کے راستوں کو پانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلا قدم جو ر کھا ہے وہ ایمان بالغیب ہے ، اور یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔یہ ایمان بالغیب ہی ہے جو ایمان میں ترقی کا باعث بنتا ہے۔اور یہ ایمان میں ترقی ہدایت کے ان راستوں کی طرف لے جاتی ہے جو خدا تعالیٰ کے پانے کے راستے ہیں۔خدا تعالیٰ کی تعلیم کو سمجھنے کے راستے ہیں۔خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں بڑھنے کے راستے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ اس کی وضاحت اس طرح فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ :