خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 430 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 430

خطبات مسرور جلد ہشتم 430 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اگست 2010 لیکن ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کا خیال رکھنا چاہئے۔آج مسلمان بھی اگر حقیقت میں حُبّ پیغمبری اور حُبّ قرآن کا دعویٰ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے حکم کو سمجھتے ہوئے اپنی رہنمائی کے لئے اس رہنما کو تلاش کریں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ارشاد کے تابع اور پیشگوئیوں کے مطابق مبعوث ہوا۔یہ رمضان کا مہینہ جس میں خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ قرآنِ کریم نازل ہوا جو تمام انسانوں کے لئے ہدایت ہے تو ہدایت کے وہ راستے متعین کریں جو قرآنِ کریم نے متعین کئے ہیں۔ہدایت کے معیار وہ بنائیں جو قرآنِ کریم نے بنائے ہیں۔ہدایت دینے والے کو پانے کے لئے بھی خالص ہو کر دعا کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا سکھائی ہے۔اگر خالص ہو کر یہ دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ضرور رہنمائی فرماتا ہے۔اس دعا کے ساتھ تو اللہ تعالیٰ غیر مسلموں کی بھی رہنمائی فرما دیتا ہے ، مسلمانوں کی تو ضرور کرے گا۔کاش کہ ہمارے مسلمان بھائی ہمارے اس دردمندانہ پیغام اور جذبات کو سن کر اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔اور اپنی دنیا و آخرت سنوار لیں۔قرآن حقیقی برکات کا سر چشمہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : یاد رکھو قرآن شریف حقیقی برکات کا سر چشمہ اور نجات کا سچا ذریعہ ہے۔یہ ان لوگوں کی اپنی غلطی ہے جو قرآن شریف پر عمل نہیں کرتے۔عمل نہ کرنے والوں میں سے ایک گروہ تو وہ ہے جس کو اس پر اعتقاد ہی نہیں اور وہ اس کو خدا تعالیٰ کا کلام ہی نہیں سمجھتے۔یہ لوگ تو بہت دور پڑے ہوئے ہیں۔لیکن وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں کہ وہ خد اتعالیٰ کا کلام ہے اور نجات کا شفا بخش نسخہ ہے اگر وہ اس پر عمل نہ کریں تو کس قدر تعجب اور افسوس کی بات ہے۔ان میں سے بہت سے تو ایسے ہیں جنہوں نے ساری عمر میں کبھی اسے پڑھا ہی نہیں۔پس ایسے آدمی جو خدا تعالیٰ کے کلام سے ایسے غافل اور لا پرواہ ہیں اُن کی ایسی مثال ہے کہ ایک شخص کو معلوم ہے کہ فلاں چشمہ نہایت ہی مصفی اور شیریں اور خنک ہے“۔( صاف اور میٹھا اور ٹھنڈا پانی ہے ) اور اس کا پانی بہت سی امراض کے واسطے اکسیر اور یہ علم اس کو یقینی ہے لیکن باوجود اس علم کے اور باوجو د پیاسا ہونے اور بہت سی امراض میں مبتلا ہونے کے وہ اس کے پاس نہیں جاتا تو یہ اس کی کیسی بد قسمتی اور جہالت ہے۔اسے تو چاہئے تھا کہ وہ اس چشمے پر منہ رکھ دیتا اور سیر اب ہو کر اُس کے لطف اور شفا بخش پانی سے حظ اٹھا تا مگر باوجو د علم کے اس سے ویسا ہی دور ہے جیسا کہ ایک بے خبر۔اور اس وقت تک اس سے دُور رہتا ہے جو موت آکر خاتمہ کر دیتی ہے۔اس شخص کی حالت بہت ہی عبرت بخش اور نصیحت خیز ہے۔مسلمانوں کی حالت اس وقت ایسی ہی ہو رہی ہے۔وہ جانتے ہیں کہ ساری ترقیوں اور کامیابیوں کی کلید یہی قرآن شریف ہے جس پر ہم کو عمل کرنا چاہئے۔مگر نہیں، اس کی پر واہ بھی نہیں کی جاتی۔ایک (یعنی اپنے آپ کے بارہ میں کہہ رہے ہیں کہ ایک شخص جو نہایت ہمدردی اور خیر خواہی کے ساتھ اور پھر نرمی ہمدردی ہی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے حکم اور ایماء سے اس طرف بلاوے تو اسے کذاب اور دجال کہا جاتا ہے۔شفا ہے۔۔اس سے بڑھ کر اور کیا قابل رحم حالت اس قوم کی ہو گی۔(ملفوظات جلد 4 صفحہ 140 جدید ایڈیشن ربوہ )