خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 429 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 429

خطبات مسرور جلد ہشتم 429 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اگست 2010 اس کے علاوہ اور بہت سی جگہوں پر مسیح کی الوہیت کی تردید بائبل میں موجود ہے۔خود بائبل تردید کرتی ہے۔دلائل سے پر اس بحث اور قرآنِ کریم کی حقیقت بیانی اور برتری کو تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ثابت فرمایا اور عیسائیوں کی ہر دلیل کو رڈ کیا تھا اور آج تک جماعت احمد یہ کرتی چلی آرہی ہے۔قرآنِ کریم کی تو یہ خوبصورت تعلیم ہے کہ حق کی تبلیغ کرو۔دنیا کو بتادو کہ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ (بقرہ: 257) کہ یقیناً ہدایت اور گمراہی کا فرق ظاہر ہو چکا۔لیکن یہ فرق بیان کرنے اور منوانے کے لئے کسی جبر کی ضرورت نہیں ہے۔جس کی مرضی ہے مانے ، جس کی مرضی ہے نہ مانے۔فرمایا : اے نبی ! تیراکام صرف اس کلام کو ، اس پیغام کو جو قرآنِ کریم کی صورت میں تجھ پر اترا ہے لوگوں تک پہنچا دینا ہے ، ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔پس اس خوبصورت تعلیم کو یہ مذموم کوشش کر کے جلانا چاہتے ہیں۔اس تعلیم کی روشنی میں شدت پسندی اور بد امنی کی تعلیم یہ چرچ دے رہا ہے یا مسلمان؟ یہ چرچ تو اپنی تعلیم پر بھی عمل نہیں کر رہا، جو بائبل میں ان کی اپنی تعلیم ہے۔بائبل تو کہتی ہے کہ اگر تمہارے ایک گال پر کوئی طمانچہ مارے تو دوسرا بھی آگے کر دو۔(متی باب 5 آیت 39 ) دنیا کو آج امن کی ضرورت ہے یہ تو بائبل نے نہیں کہا کہ تم مذہبی نفرتوں کو ہوا دو۔بہت سے عیسائی چر چوں نے بھی اس چرچ کی اس ظالمانہ سوچ اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کی مذمت کی ہے اور سختی سے تردید کی ہے کہ ہم اس میں شامل نہیں ہوں گے۔اور ہر عقل مند اور امن پسند انسان کا یہی رد عمل ہونا چاہئے۔جماعت احمد یہ بھی میڈیا کے ذریعے اور مختلف طریقوں سے اس Dove Church کو اپنی اس مذموم حرکت سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔(Dove عیسائیت میں روح القدس کا نشان بھی ہے کہ یہی کہا جاتا ہے کہ حضرت عیسی پر فاختہ کی صورت میں روح القدس اتری)۔بہر حال امریکہ کی جماعت کو بھی میں نے کہا تھا کہ ایک مہم کی صورت میں اس پر کام کریں اور دنیا کی باقی جماعتوں کو بھی اسی طرح کرنا چاہئے کہ یہ جو طریقہ اپنا رہے ہیں یہ دنیا میں فساد پیدا کرنے کا طریقہ ہے۔اس سے بجائے محبتوں کے کینوں اور بعضوں کی دیواریں کھڑی ہوں گی۔قرآنِ کریم میں حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کا مقام جو ظاہر کیا ہے وہ ان لوگوں کو نظر نہیں آتا۔قرآنِ کریم تو ہر نبی کی عزت کرتا ہے۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا ان کی یہ حرکت نفرتوں کی دیواریں کھڑی کرے گی۔وہ مسلمان جو بد قسمتی سے اس زمانہ کے امام کو نہ مان کر بے لگام ہیں، یا ان کی لگامیں بد قسمتی سے ان لوگوں کے ہاتھوں میں آگئی ہیں جو اپنے مفاد حاصل کرنا چاہتے ہیں، ان مسلمانوں سے غلط ردِ عمل بھی ہو سکتا ہے۔دنیا کو آج امن کی ضرورت ہے، محبت کی ضرورت ہے، بھائی چارہ کی ضرورت ہے، جنگوں کی تباہی سے بچنے کی ضرورت ہے، خدا تعالیٰ کے پیار کو جذب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تباہ ہونے سے بچ سکیں۔اس کے حصول کے لئے عیسائیوں کو بھی اپنے قبلہ کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔اور مسلمانوں کو بھی صحیح رد عمل دکھانے کی ضرورت ہے۔دلائل کی بخشیں کریں، علمی بحثیں کریں۔