خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 428
خطبات مسرور جلد ہشتم 428 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اگست 2010 اسلامی تعلیم کو بدنام کرنے کی ایک مذموم کوشش آج کل قرآن کریم اور اسلامی تعلیم کو بدنام کرنے کی ایک مذموم کوشش امریکہ کے ایک چرچ کی طرف سے ہو رہی ہے۔انہوں نے اپنا جو پروگرام بنایا ہے اس میں ایک ظالمانہ کام 11 ستمبر کو قرآنِ کریم کو جلانے کا بھی ہے جسے میڈیا نے ہر جگہ بیان کیا ہے۔اس چرچ نے جو اعتراضات کئے ہیں وہ دس اعتراضات ہیں جو انتہائی لغو اور بو دے اعتراضات ہیں۔اعتراض کرنے ہوں تو ہم بائبل پر بہت سارے اعتراض کر سکتے ہیں لیکن ہمارا یہ کام نہیں ہے کہ فساد پیدا کریں۔ہاں علمی بحث ہے اور اعتراض کا حق ہر ایک کو حاصل ہے۔علمی بحث ہم کرتے ہیں۔لیکن کسی مسلمان کا یہ حق نہیں کہ ان باتوں کی وجہ سے کہ بائبل بعض باتیں کرتی ہے، بلکہ بعض جگہ توحید کی منکر ہے ، تو اس بائبل کو جلانا شروع کر دیں؟ قرآنِ کریم تو شروع سے آخر تک توحید کی تعلیم دیتا ہے اور یہی کام ہم نے کرنا ہے۔اور تمام انبیاء اسی مقصد کے لئے آئے ہیں۔سب سے بڑھ کر قرآن کریم ہی ہے جس نے توحید کی تعلیم دی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ توحید ہی ہے جس کے بغیر کسی مذہب کی بنیاد ہی نہیں ہو سکتی۔اور اس زمانہ میں جس جری اللہ کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا ہے اس نے اس تعلیم کو اس عظمت سے ظاہر فرمایا کہ جو بندے کو خد ابنانے والے تھے ، انہوں نے یہ اعلان کر دیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کے ماننے والوں سے مذہبی بحث نہ کرو۔آج کل کی عیسائیت کی تو بنیاد ہی تثلیث پر ہے۔توحید سے تو اس کی بنیادیں ہی ہل جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو بائبل سے ہی حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے اقوال سے ثابت فرمایا کہ وہ خدا کے بیٹے نہیں ہیں اور کوئی خدا کا بیٹا نہیں بن سکتا۔اس چرچ کو جو قرآن کے خلاف مہم چلا رہا ہے سب سے بڑا اعتراض ہی یہی ہے۔پہلا اعتراض ہی انہوں نے یہ لکھا ہوا ہے اور دوسرے میں اسی اعتراض کو پھر آگے پھیلایا کہ قرآنِ کریم حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا کا بیٹا نہیں مانتا۔اور اس وجہ سے کہتا ہے کہ نجات انسان کے عمل سے ہے نہ کہ کسی کے یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کے صلیب پر چڑھنے کی وجہ سے۔ان عقل کے اندھوں کو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ اس بات پر حضرت عیسی علیہ السلام خود بھی یقین کرتے تھے لیکن ان کے نام پر ان کی تعلیم کو بعد میں بگاڑ دیا گیا اور اللہ تعالیٰ کے مقابل پر ایک عاجز انسان کو لا کر کھڑا کر دیا گیا۔پس جب انسان شکست خوردہ ہو جائے، اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہو تو اس کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ شدت پسندی پر اتر آئے۔اور یہ چرچ جس کا نام Dove world outreach centre church ہے ، یہی کر رہا ہے۔بائبل میں تو ایک جگہ بلکہ ایک جگہ کیا کئی جگہ حضرت عیسی علیہ السلام نے کہا ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام مرقس میں جسے انگریزی میں Mark کہتے ہیں، ایک جگہ فرماتے ہیں ، اس کا باب 12 آیت 30-29 ہے کہ: ”اول یہ ہے اے اسرائیل سن خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے۔اور تو خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل اور اپنی ساری طاقت سے محبت رکھ"۔(مرقس باب 12 آیت 29,30 )