خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 423 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 423

خطبات مسرور جلد ہشتم 423 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 اگست 2010 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " قرآن شریف نے جھوٹ کو بھی ایک نجاست اور رجس قرار دیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ النُّورِ (الحج: 31) - فرمایا: ”دیکھو! یہاں جھوٹ کو بت کے مقابل رکھا ہے اور حقیقت میں جھوٹ بھی ایک بہت ہی ہے ، ورنہ کیوں سچائی کو چھوڑ کر دوسری طرف جاتا ہے۔جیسے بت کے نیچے کوئی حقیقت نہیں ہوتی اسی طرح جھوٹ کے نیچے بجز ملمع سازی کے اور کچھ بھی نہیں ہو تا۔جھوٹ بولنے والوں کا اعتبار یہاں تک کم ہو جاتا ہے کہ اگر وہ سچ کہیں تب بھی یہی خیال ہوتا ہے کہ اس میں بھی کچھ جھوٹ کی ملاوٹ نہ ہو“۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 266 جدید ایڈیشن ربوہ) پس جب انسان اپنے معاملات میں جھوٹ شامل کر لیتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ ایسے شخص کو شرک کرنے والے کے برابر ٹھہراتا ہے۔اور شرک کرنے والا تو خدا تعالیٰ کی عبدیت کا دعویٰ کر ہی نہیں سکتا۔پس یہ بڑے خوف کا مقام ہے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ چھوٹی موٹی غلط بیانی جو ہے وہ جھوٹ نہیں ہوتا۔یہ جھوٹ کے زمرہ میں نہیں آتا، حالانکہ یہ بھی جھوٹ ہے۔آنحضرت علی ایم نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات دوسروں کو بتاتا پھرے۔( صحیح مسلم مقدمہ باب النھی عن الحديث بكل ما سمع حدیث:7) پس اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے یہ باریکیاں ہیں جن کو اختیار کرنے کا حکم ہے۔یہ باتیں ہیں جن پر اللہ تعالیٰ ہم سے لبیک کہلوانا چاہتا ہے۔اور یہی چیز ہے جو ایمانوں میں مضبوطی پیدا کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا عبد بناتی ہے۔روزہ کے حوالے سے بھی آنحضرت علی ای ایم نے خاص طور پر توجہ دلائی ہے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت علی الم نے فرمایا کہ جو شخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑ تا اللہ تعالیٰ کو اس چیز کی قطعا ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔( صحیح بخاری کتاب الصوم باب من لم يدع قول الزور والعمل به في الصوم حدیث نمبر 1903) پھر ایک روایت ہے کہ روزہ ڈھال ہے جب تک کہ وہ اس ڈھال کو جھوٹ اور غیبت کے ذریعے نہیں پھاڑتا۔( الجامع الصغیر للسیوطی حرف الصاد حدیث نمبر 5197 جزء اول و دوم صفحه 320 دار الكتب العلمیة بیروت ایڈیشن 2004ء) کیونکہ روزہ تو ایک مومن رکھتا ہے۔جب جھوٹ آگیا تو ایمان تو ختم ہو گیا۔خدا تعالیٰ کی خاطر روزہ رکھا جاتا ہے۔جب جھوٹ آگیا تو خدا تعالیٰ تو بیچ میں سے نکل گیا۔تب تو شرک پیدا ہو گیا۔اس لئے روزہ بھی ختم ہو گیا۔یہ تو خاص روزے کے حالات کے لئے ہے۔لیکن عام حالات میں بھی جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا جھوٹ کو شرک کے برابر قرار دیا گیا ہے۔پس اس رمضان میں اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی بعض کمزوریوں کا جائزہ لے کر انہیں دور کرنے کی کوشش کریں تبھی ہم اللہ تعالیٰ کا حقیقی عبد بن سکتے ہیں۔ایمان میں مضبوطی کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی باتوں پر لبیک کہنے والے بن سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اِنِّی قریب کی آواز کو سن سکتے ہیں۔