خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 422
خطبات مسرور جلد ہشتم 422 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 اگست 2010 شامل نہیں ہوں گے۔ہم جب رسول اللہ صلی اللی کم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو یہ سارا واقعہ بیان کیا۔آپ صلی میں ہم نے فرمایا جاؤ اور اپنا عہد پورا کرو۔ہم دشمن کے مقابل پر دعا سے مدد چاہیں گے۔دعاسے اور اپنا عہد پورا کرو۔ہم (صحیح مسلم کتاب الجہاد باب الوفاء بالعهد حدیث نمبر 4639) فرمایا کہ تم جاؤ اپنا عہد پورا کرو۔گو ہمیں ضرورت تو ہے لیکن ہم اب دشمن کے مقابل پر دعا سے مدد چاہیں گے۔پس یہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کا اعلیٰ معیار ہے۔بدر کی جنگ میں ایک ایک فرد کی مدد کی ضرورت تھی۔کفار کا لاؤلشکر جو ہر طرح سے لیس تھا، اس کے مقابلہ پر دیکھا جائے تو مسلمانوں کی حیثیت نہتوں جیسی تھی۔لیکن آپ نے فرمایا کہ تم عہد کر چکے ہو پس یہ عہد پورا کرو۔میں دعا سے اللہ تعالیٰ کی مدد چاہوں گا۔اور پھر دنیا نے یہ نظارہ دیکھا اور تاریخ نے اسے محفوظ کر لیا اور دشمن بھی آپ کے اس عہد کے معترف ہیں، لیکن اس عبدِ کامل کو جس کو پہلے بھی اپنے خدا پر بھروسہ تھا اور وہ خدا جو اس عبد کامل کے ہر وقت قریب رہتا تھا اس نے کس طرح اپنی قربت کا نشان دکھایا کہ آپ صلی یکی کی دعاؤں کو قبول فرماتے ہوئے نہتوں اور کمزوروں کو طاقت وروں اور لاؤلشکر سے لیس فوج پر نہ صرف غلبہ عطا کر دیا بلکہ ایسا غلبہ عطا فرمایا جو واضح غلبہ تھا۔جس یقین سے آپ نے فرمایا تھا کہ میں دعا سے خدا تعالیٰ کی مدد چاہوں گا اس یقین کو سچے وعدوں والے خدا نے پورا فرمایا اور صحابہ کے ایمان کو مزید مضبوط کیا اور دشمن پر ہیبت طاری فرمائی۔ایک عورت نے فتح مکہ کے موقع پر دشمن کو پناہ دینے کا وعدہ کیا تو آنحضرت صلی اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اُم ہانی! جسے تُو نے پناہ دی، اسے ہم نے پناہ دی۔( صحیح بخاری کتاب الصلاة باب الصلوة في الثوب الواحد ملتحفا به حدیث نمبر 357) پس ایک مومنہ کے زبان دینے کا آپ نے اس قدر پاس کیا کہ باوجود اس کے کہ حضرت علی جیسے لوگوں نے اس کی مخالفت بھی کی، آپ نے جو اعلیٰ اخلاق پیدا کرنے آئے تھے فرمایا کہ اپنے وعدے کا پاس کرو۔اور کیونکہ تم نے وعدہ کر لیا ہے اس لئے ہم بھی تمہارے وعدے کا پاس کرتے ہیں۔آج ہم دیکھتے ہیں، آج کل کے معاشرے میں، ذرا ذرا سی بات پر عہد شکنیاں ہو رہی ہوتی ہیں اور معاشرے کا امن برباد ہو رہا ہوتا ہے۔غیروں میں تو خیر بہت زیادہ ہے لیکن جماعت میں بھی ایسی صورت پید اہو جاتی ہے۔اور اس پر مستزاد یہ کہ بعض اوقات جھوٹ کا بھی سہارا لیا جاتا ہے۔جب مقدمے بازیاں ہو رہی ہوتی ہیں یا معاملات پیش کئے جاتے ہیں، تو ایک عہد شکنی ہو رہی ہوتی ہے اور دوسرے جھوٹ بھی بولا جارہا ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبدیت سے ویسے ہی نکال دیتا ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے جھوٹ اور شرک کو جمع کر کے یہ واضح فرما دیا کہ جھوٹ اور شرک برابر ہیں جیسا کہ فرماتا ہے۔فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَولَ النُّورِ (الحج: 31) پس بتوں کی پلیدی سے احتراز کرو اور جھوٹ کہنے سے بچو۔