خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 421 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 421

خطبات مسرور جلد ہشتم 421 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 اگست 2010 کرنی چاہئے کہ یہ عارضی تبدیلی نہ ہو بلکہ مستقل نوعیت کی تبدیلی ہو اور ہم اللہ تعالیٰ کا حقیقی عبد بنتے ہوئے اپنی عبادتوں کے معیار اونچے سے اونچے کرتے چلے جائیں۔ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ اپنی دعاؤں، عبادتوں اور نیک اعمال سے اللہ تعالیٰ کا وہ قرب حاصل کریں جس کا تسلسل کبھی ختم نہ ہو۔ہماری عبادتوں کے معیار اونچے ہوتے چلے جائیں۔ہمارے تقویٰ کے معیار اونچے ہوتے چلے جائیں۔اس کے حصول کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے ایک جگہ جو طریق بتایا ہے وہ یہ ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 617) یا در کھو کہ سب سے اول اور ضروری دعا یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو گناہوں سے پاک صاف کرنے کی دعا کرے۔ساری دعاؤں کا اصل اور مجز یہی دعا ہے۔کیونکہ جب یہ دعا قبول ہو جاوے اور انسان ہر قسم کی گندگیوں اور آلودگیوں سے پاک صاف ہو کر خدا تعالیٰ کی نظر میں مظہر ہو جاوے تو پھر دوسری دعائیں جو اس کی حاجاتِ ضروریہ کے متعلق ہوتی ہیں وہ اس کو مانگنی بھی نہیں پڑتیں“۔فرمایا کہ ”بڑی مشقت اور محنت طلب یہی دعا ہے کہ وہ گناہوں سے پاک ہو جاوے“۔آپ فرماتے ہیں کہ یہ دعا بہت مشکل دعا ہے اور اس کے لئے بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔لیکن اصل دعا یہی ہے کہ انسان اپنے آپ کو گناہوں سے پاک کرنے کی دعا کرے۔پس یہ دعا ہے جو اصل ہے۔جب انسان اپنے آپ کو ہر قسم کے گناہوں سے پاک کرنے کی کوشش کرتا ہے تبھی وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر عمل کرنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے کہ میری بات پر لبیک کہو۔جیسا کہ میں نے کہا قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کے احکامات سے بھرا پڑا ہے۔ان پر عمل ہو گا تو تبھی ہم اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہنے والے بن سکیں گے۔تبھی ہم اپنے آپ کو گناہوں سے پاک کرنے کی کوشش کرنے والے بنیں گے۔جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کے قرآنِ کریم میں بے شمار احکامات ہیں۔تمام کا بیان تو ایک مجلس میں ہو نہیں سکتا۔رمضان کے مہینے میں جب تلاوت کی طرف بھی توجہ زیادہ ہوتی ہے، قرآنِ کریم کی تلاوت کر رہے ہوتے ہیں، درس وغیرہ سننے کی طرف توجہ ہوتی ہے تو ان میں ان احکامات پر غور کرنے کی ہر مومن کو کوشش کرنی چاہئے۔لیکن بہر حال جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ اس وقت میں آنحضرت صلی علیکم کے اُسوہ میں سے چند باتوں کا ذکر کروں گا۔آپ کی عبادت کے بارہ میں تو ایک ملکی سی جھلک میں نے دکھائی کہ کیا معیار تھا؟۔اب آپ کے اُسوہ کے چند اور نمونے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وَ اَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا (بنی اسرائیل :35) اور اپنے عہد پورے کرو، یقیناً عہد کے بارہ میں جواب طلبی ہو گی۔اب اس میں کس حد تک آپ پابندی فرماتے تھے۔ایک روایت میں حذیفہ بن یمان بیان کرتے ہیں کہ میرے بدر کی جنگ میں شامل ہونے میں یہی روک ہوئی کہ میں اور میر اسا تھی ابو سہل گھر سے نکلے۔راستے میں کفار قریش نے ہمیں پکڑ لیا اور پوچھا تم محمد کے پاس جا رہے ہو ؟ ہم نے کہا۔ہم مدینہ جارہے ہیں۔انہوں نے ہم سے عہد لیا کہ ہم رسول اللہ صلی ال نیم کے ساتھ لڑائی میں