خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 420 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 420

خطبات مسرور جلد ہشتم 420 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 اگست 2010 حکم فرمایا ہے کہ مومن کی نشانی یہ ہے کہ يُقِيمُونَ الصَّلوةَ ( البقرة:04) کہ وہ نمازوں کو قائم کرتے ہیں۔نماز باجماعت ادا کرنے کے لئے نماز کے اوقات میں جمع ہوتے ہیں۔تو وہ کامل انسان جس سے خدا تعالیٰ نے یہ اعلان کروایا تھا کہ قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ( الانعام: 163) اے نبی! تو اعلان کر دے کہ میری نمازیں اور میری قربانی اور میرازندہ رہنا اور میر امرنا اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے تو وہ اس بات کو کس طرح برداشت کر سکتا تھا کہ کسی بھی حالت میں اللہ تعالیٰ کے اس حکم سے سر موز و گردانی کی جائے یا اسے ٹالا جائے۔بلکہ آپ تو اپنی آخری بیماری میں بھی جب کمزوری کی انتہا تھی اور چلا نہیں جاتا تھا تو سہارے سے مسجد میں تشریف لائے تھے۔( صحیح بخاری کتاب الاذان باب حد المريض ان يشهد الجماعة حدیث نمبر 664) پس یہ سب کچھ آپ صلی علی نظم کے اللہ تعالیٰ کی محبت میں فنا ہونے کی وجہ سے تھا۔پس ایمان میں بڑھنے کی اور عمل کی معراج بھی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب محبت کی بھی انتہا ہو۔پس ہمیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ محبت کی انتہا کا نمونہ تمہارے سامنے ہے۔تم جو سوال کرتے ہو کہ خدا تعالیٰ کہاں ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ کو اس محبوب کے عمل میں دیکھو۔میرے حقیقی عبد بنے کا حق ادا کرنے کی کوشش کرو پھر مجھے اپنے قرب میں دیکھو گے۔اگر صرف رمضان میں ہی اپنی مسجد میں آباد کیں اور پھر مجھے بھول گئے یا آج جو مشکل کے دن تم پر آئے ہوئے ہیں تو اس میں مسجد میں آنے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہو۔اور حالات ٹھیک ہونے پر مجھے بھول گئے یا وقت گزرنے پر مجھے بھول گئے تو یہ میری بات پر لبیک کہنا نہیں ہے۔یہ تو اپنی غرض کو پورا کرنا ہے۔میری بات پر لبیک کہنا تو تب ہو گا جب یہ حالات، یہ جذباتی کیفیت، یہ مشکل وقت، رمضان کا یہ عمومی روحانی ماحول ختم بھی ہو جائے گا تو تب بھی میرے رسول صلی للی یکم کے سوہ پر عمل کرتے ہوئے اپنی عبادتوں اور اپنے عمل کو میرے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے مستقل طور پر بجالانے کی کوشش کرو گے۔جیسا کہ میں نے کہا حالات کی وجہ سے عبادت کی طرف توجہ ہے۔آج کل پاکستان میں احمدیوں کے جو حالات ہیں اس نے پوری دنیائے احمدیت کو عبادت کے معیار بہتر بنانے اور اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کی کوشش کی طرف مائل کیا ہے۔کئی لوگوں کو دعاؤں اور خدا تعالیٰ کے قرب کی وجہ سے تسلی بھی دلائی گئی ہے۔گویا کہ انہوں نے انی قریب کا مشاہدہ کر لیا۔پاکستان میں احمدیوں پر سخت حالات اور اس کے بعد جو جلسوں نے اس کیفیت کو ابھی تک جاری رکھا ہوا ہے۔اور پھر اب رمضان آگیا ہے۔یہ دعاؤں کا، دعاؤں کی قبولیت کا اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کا ایک مہینہ ہے۔اس میں جہاں یہ کوشش اپنی انتہا تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہئے وہاں یہ بھی دعا کرنی چاہئے کہ یہ حالت اب ہم میں ہمیشہ کے لئے قائم ہو جائے۔رمضان ختم ہونے اور وقت گزرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ کہیں ہم پھر اپنی کمزوری کی طرف نہ چلے جائیں۔احمدیوں کو یہ احساس بھی ہے کہ جلسوں نے جو کیفیت جاری رکھی ہے اب رمضان آنے سے اس میں مزید جلا پیدا ہو گی اور اس کے لئے دعا کے لئے لکھتے بھی ہیں۔لیکن یہ کوشش بھی