خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 418
خطبات مسرور جلد ہشتم 418 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 اگست 2010 تھے جس کا کوئی عام انسان مقابلہ نہیں کر سکتا۔لیکن احادیث میں آتا ہے کہ رمضان میں آپ کی سخاوت تیز ہوا سے بھی بڑھ جاتی تھی۔( بخاری کتاب الصوم باب اجو دما کان النبی صلی اللہ کو ما یکون فی رمضان حدیث نمبر 1902) اسی طرح عبادات اور اللہ تعالیٰ کے دوسرے احکامات پر عمل کا حال ہے۔یہ جو میں نے کہا اور اکثر کہا جاتا ہے کہ آپ کے عمل تک عام انسان نہیں پہنچ سکتا لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ آپ کے اُسوہ کی پیروی کرو۔اس سے قطعا یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ جب اس مقام تک پہنچنا نہیں تو عمل کرنے کی کیا ضرورت ہے۔پھر اسوہ کیسا؟ یہ مضمون بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑا کھول کر بیان فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی استعدادیں رکھی ہیں۔جس کی جس قدر استعداد ہے اسے اس کو استعمال میں لانے کا حکم ہے اور اللہ تعالیٰ جو ہر ایک کی طاقت اور استعداد کو جانتا ہے، جو انسان کی استعداد سے بڑھ کر اس پر بوجھ نہیں ڈالتا اس نے یہ فرمایا ہے کہ یہ اُسوہ تمہارے سامنے ہے تم نے اس کی پیروی کرنی ہے۔اس پیروی کی وجہ سے تمہاری استعدادوں کے مطابق تمہیں اس کا اجر ملے گا۔اور یہ بات یادر کھنی چاہئے کہ استعدادوں کی تعیین کرنا انسان کا کام نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کس انسان میں کتنی استعداد ہے۔انسان کا کام ہے کہ اپنی کوشش کی انتہا کر دے اور پھر معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دے۔انسان کا کام، ایک مومن کا کام جہاد کرنا ہے اور جہاد کا مطلب ہی یہ ہے کہ اپنی تمام تر طاقتوں کے ساتھ کو شش کرنا کسی کام میں پورے شوق اور اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ اپنے آپ کو مشقت میں ڈالتے ہوئے حجت جانا۔اس حد تک کوشش کرنا کہ انسان تھک کر چور ہو جائے۔یہی جہاد کے معنی ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ایک جگہ فرماتا ہے کہ وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت: 70) اور وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں ہم ضرور ان کو اپنے راستوں کی طرف آنے کے طریق بتائیں گے۔پس اللہ تعالیٰ نے جَاهَدُوا کا لفظ استعمال فرما کر ہمیں اس طرف توجہ دلائی ہے کہ ایک انسان کو جو ایمان میں بڑھنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ کے قرب کے لئے جہاد کی ضرورت ہے۔ایسی کوشش کی ضرورت ہے جو مسلسل ہو اور اسے تھکا کر چور کر دے۔جب ایسی کوشش ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ بڑھ کر ایسے انسان کو گلے لگا لیتا ہے۔حکم تو یہ فرمایا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی صفت کریمی یہ ہے کہ بے شک یہ حکم تو دیا ہے کہ مجھ تک پہنچنے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ کوشش کرو لیکن اپنے رسول صلی علیم کو بتادیا کہ ان مومنوں کو بتادے کہ جب وہ ایک قدم میری طرف بڑھتے ہیں تو میں دو قدم بڑھتا ہوں۔جب وہ چل کر آتے ہیں تو میں دوڑ کر آتا ہوں۔(سنن الترمذی ابواب الدعوات باب فی حسن الظن باللہ عزو جل حدیث : 3603) پس انسان کی کوششیں تو نام کی کوششیں ہیں۔ہمارا پیارا خدا تو ایسا دیالو خدا ہے کہ جب وہ دیکھتا ہے کہ میرے بندے نے فَلْيَسْتَجِيبُوانی یعنی میری بات پر لبیک کہنے پر عمل کرتے ہوئے قرب پانے کے