خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 419 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 419

خطبات مسرور جلد ہشتم 419 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 اگست 2010 لئے پہلا ہی قدم اٹھایا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے یہ فاصلے کم کرتا چلا جاتا ہے اور ایک کمزور انسان اور عبد رحمان بننے کے خواہش مند کو سینے سے لگالیتا ہے۔آنحضرت صلی للی یکم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی طرف آنے والے بندے کو پا کر اس سے زیادہ خوشی ہوتی ہے جو ایک ماں کو اپنے گمشدہ بچے کے ملنے سے ہوتی ہے۔( صحیح بخاری۔کتاب الادب۔باب رحمۃ الولد و تقبیلہ و معانقته حدیث نمبر 5999) پس یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کے جلوے ہیں ورنہ ایک عاجز انسان کی کیا کوشش ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی رحمانیت ہی ہے جو اسے اپنے قریب لے آتی ہے۔بہر حال میں واپس اپنی بات کی طرف آتا ہوں جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ نیم کا اسوہ جو خدا تعالیٰ کے احکامات پر عمل کی ایک کامل تصویر تھے رمضان میں تو اس کے غیر معمولی نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن عام حالات میں بھی آپ کی عبادتوں ، اخلاق فاضلہ اور حقوق کی ادائیگی کی وہ مثالیں نظر آتی ہیں جو کسی انسان میں نہیں ہو سکتیں۔آپ کی عبادت کے معیار اور دوسری باتوں کی چند مثالیں میں پیش کرتا ہوں۔ایک روایت ہے۔ایک دفعہ گھوڑے سے گر جانے کی وجہ سے آپ صلی اعظم کے جسم کا ایک حصہ شدید زخمی ہو گیا۔کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتے تھے اس لئے آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی لیکن اس حالت میں بھی نماز باجماعت کا ناغہ نہیں کیا۔( صحیح بخاری کتاب المرضى باب اذا عاد مريضاً فحضرت الصلاة فصلی بھم جماعة حديث نمبر 5658) پھر غزوہ احد میں جب لوہے کی کڑیاں آپ کے رخسار مبارک میں ٹوٹنے کی وجہ سے آپ انتہائی زخمی تھے اور تکلیف کی حالت میں تھے تو اس دن بھی جب اذان کی آواز سنی تو اسی طرح نماز کے لئے تشریف لائے جس طرح عام دنوں میں تشریف لایا کرتے تھے۔(ماخوذ از شروح الحرب ترجمہ اردو فتوح العرب از محمد بن عمر واقدی مترجم مولوی ممتاز بیگ صفحہ 387 تا390 مکتبہ رحمانیہ لاہور ) پھر حضرت عائشہ نے آپ کی نمازوں کا، نوافل کا نقشہ کھینچا ہے کہ نماز کی ہر حالت کی لمبائی اور خوبصورتی بیان سے باہر ہے۔( صحیح بخاری کتاب التجد باب قیام النبی صل للعالم باللیل فی رمضان وغیرہ حدیث نمبر 1147) پس یہ عبد کامل تھا جس نے عبادت کا ایک حسین اُسوہ قائم فرمایا۔جس نے صحابہ کی عبادتوں میں بھی حسن پیدا کر دیا۔پس جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری بات پر لبیک کہیں، تبھی میں اپنے قرب کا پتہ دے سکتا ہوں تو اس کا سب سے پہلا اور اہم اور بنیادی مرحلہ جس سے گزرنا ضروری ہے وہ اپنی عبادت میں طاق ہونا ہے۔اور یہ عبادت صرف آج کل ہم نے رمضان کی وجہ سے ہی ایک خاص ذوق اور شوق سے نہیں بجالانی بلکہ جیسا کہ ہم آنحضرت صلی علم کی زندگی میں دیکھتے ہیں کہ عام دنوں میں بھی، عام حالات میں بھی، بلکہ بیماری اور جنگ کی وجہ سے زخمی حالت میں بھی آپ صلی الی یکم حق بندگی ادا کرتے ہوئے اپنی باجماعت نمازوں کو نہیں بھولے۔جب اللہ تعالیٰ نے