خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 417 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 417

417 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 اگست 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم فرمایا ہے۔جس کے بارہ میں خدا تعالیٰ نے یہ اعلان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا محبوب بننے کے لئے بھی اس کی پیروی کرنی ضروری ہے۔ایک مسلمان، ایک مومن تو اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ وہ کسی اور سے راستہ پوچھے یا کسی اور کو اپنے لئے اُسوہ سمجھے۔اگر اللہ تعالیٰ کے اس پیارے رسول صلی علیکم کے علاوہ مومنین کے لئے ، ہمارے لئے ، ہم جو اس زمانے میں رہنے والے ہیں، ان کے لئے اگر آنحضرت صلی للی یکم کے بعد کوئی اسوہ ہو سکتا ہے۔تو آپ کے اصحاب ہیں جنہوں نے آپ کی کامل پیروی کی۔اور یا پھر اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ کے اس پیارے کا عاشق صادق ہے جس نے ہمیں قرآن کریم کے احکامات سمجھنے اور عشق رسول صلی علیم میں فنا ہونے کے نئے اسلوب سکھائے ہیں۔پس جو آنحضرت صلی علیم کے علاوہ اُسوہ قائم کرنے والے ہیں ان سب کا مرکز اور سو تا آنحضرت صلی الم کی ذات ہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے عبد کامل ہیں اور قیامت تک کوئی ایسا عبد کامل پیدا نہیں ہو سکتا جو آنحضرت صلی ایم کے معیار کا ہو۔پس اللہ تعالیٰ اس عبدِ کامل کو فرماتا ہے کہ جو بندے میرا قرب حاصل کرنے کے لئے ، اپنی دعاؤں کی قبولیت کے لئے تیرے ارد گرد جمع ہو گئے ہیں اور میرے بارہ میں پوچھتے ہیں کہ میں کہاں ہوں ؟ تو انہیں بتادے کہانی قریب کہ میں قریب ہوں۔لیکن اس قرب کو پانے کے لئے بھی معرفت کی نظر چاہئے۔نظر میں وہ تیزی چاہئے جس سے میں نظر آؤں۔اور یہ معرفت اور نظر کی تیزی حاصل کرنے کے لئے بھی میرے پیارے کے اُسوہ کی طرف دیکھو۔کیونکہ وہی ہے جو کامل طور پر میری تعلیم پر عمل کرنے والا ہے۔جنہوں نے اس رسول صلی نیم کے اسوہ کو دیکھ کر اس پر عمل کیا، جنہوں نے سچا عشق رسول دکھا یا وہ باخدا بن کر حقیقی عبد بن گئے۔انہوں نے اللہ تعالیٰ کے قرب کے نظارے دیکھے۔انہوں نے اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ کا مزا چکھا۔انہوں نے اپنی دعاؤں کے جواب سنے۔اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نظارے دیکھے۔پس آج بھی سوال کرنے والوں کے لئے وہی جواب ہے جو آج سے چودہ سو سال پہلے تھا۔آج بھی محمد رسول اللہ صلی للی کم کا خدا اسی طرح زندہ ہے جس طرح ہمیشہ سے زندہ تھا اور ہمیشہ رہے گا۔پس اگر ضرورت ہے تو ان احکامات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔اگر ضرورت ہے تو اس کے رسول کے اُسوہ اور تعلیم پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔پس اس اُسوہ کی ہمیں وقتا فوقتا جگالی کرتے رہنا چاہئے، دیکھتے رہنا چاہئے تاکہ ہمارے نیکیوں کے معیار بڑھیں، تاکہ ہم اپنی خامیوں پر نظر رکھ سکیں، تا کہ ہمارا خدا تعالیٰ پر ایمان پختہ ہو، تاکہ ہم دعاؤں کے فلسفے کو سمجھ سکیں۔آنحضرت صلی لی ہم نے جہاں اپنے عمل اور اُسوہ سے ہماری تربیت اور رہنمائی فرمائی ہے وہاں مومنین کو نصائح بھی فرمائی ہیں۔دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ رمضان اللہ تعالیٰ کا قرب پانے ، عبادات کو بجالانے، فسق و فجور سے بچنے اور حقوق العباد ادا کرنے کی طرف پہلے سے بڑھ کر توجہ دینے کا مہینہ تو ہے ہی اور دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ تو یہ ہے ہی۔اس میں تو آنحضرت صلی الی و کم کا عمل کئی سو گنا بڑھ جایا کرتا تھا۔مثلاً صدقہ و خیرات کے ادا کرنے میں آپ بے انتہا سخی تھے۔عام حالات میں بھی