خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 416
خطبات مسرور جلد ہشتم 416 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 اگست 2010 اقرار نہیں ہے بلکہ اس میں ترقی کی طرف قدم بڑھنے چاہئیں۔اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور یقین میں ترقی ہوتی رہنی چاہئے۔اور جب ایسی حالت ہو گی تبھی کوئی شخص ہدایت پانے والا بھی کہلائے گا اور وہ مقام بھی حاصل ہو گا جو ایک حقیقی مومن کا مقام ہے۔اللہ تعالیٰ نے پھر فرمایا ہے کہ لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقی نیکی اور ہدایت کی طرف قدم بڑھتے چلے جائیں اور ہدایت میں کاملیت کی تلاش رہے۔اللہ تعالیٰ کی وہ باتیں جن پر لبیک کہنا ہے اور جن سے خدا تعالیٰ کی ذات پر ایمان میں بڑھنا ہے ان کا پتہ کہاں سے ملے گا؟ اس کا پتہ دینے کے لئے ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآنِ کریم دی ہے جو تمام ہدایتوں کا مجموعہ ہے۔جس کا اعلان اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کے شروع میں فرما دیا کہ ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقره آيت: 3) یہی کامل کتاب ہے اس میں کوئی شک نہیں اور یہ متقیوں کے لئے ہدایت ہے۔جو لوگ ہدایت کے متلاشی ہیں، جو لوگ خدا تعالیٰ پر اپنا ایمان مضبوط کرنا چاہتے ہیں، جو لوگ نیکیوں کی انتہا کو چھونا چاہتے ہیں، جو لوگ ان دعاؤں کی قبولیت کو چاہتے ہیں جو وہ کر رہے ہیں، ان کے لئے کوئی راستہ نہیں مگر یہ کامل کتاب جو کامل رسول صلی علی کم پر اتری ہے۔پس اللہ تعالیٰ کا خالص عبد بننے کے لئے ، دعاؤں کی قبولیت سے حصہ لینے کے لئے اور اپنی دنیا و عاقبت سنوارنے کے لئے اب اور کوئی راستہ نہیں ہے مگر یہ کہ خدا تعالیٰ کے ان احکامات پر عمل کیا جائے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں۔جس کے راستے ہمیں قرآن کریم پڑھنے سے ہی ملیں گے اور جس کے نمونے ہمیں اللہ تعالیٰ کے اس پاک رسول صلی علی ایم کے اسوہ میں ہی ملیں گے۔اصل میں تو قرآن کریم کی عملی تصویر ہی آنحضرت صلی اللہ علم کی ذات ہے جس کی طرف ہدایت فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے مومنین کو فرمایا ہے کہ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللهَ كَثِيرًا (الاحزاب : 22) - یقیناً تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کے رسول میں ایک اعلیٰ نمونہ اور اُسوہ حسنہ ہے ہر اس شخص کے لئے جو اللہ اور یوم آخرت کے ملنے کی امید رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ یاد کرتا ہے۔پس یوم آخرت پر ایمان اور مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ایمان اور اللہ تعالیٰ کی عبادت اور ذکر اس وقت اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل قبول ہے جب اللہ تعالیٰ کے اس پیارے رسول صلی اللہ وسلم کا اسوہ اپنانے کی کوشش کی جائے۔اور یہ اُسوہ اپنانا بھی اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل ہے جو میں نے پہلے آیت تلاوت کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِی اور جب میرے بندے تجھ سے میرے بارہ میں سوال کریں، اگر وہ میرے بندے ہیں ، مومن ہیں تو یقیناً وہ تجھ سے ہی اے رسول میرے بارہ میں سوال کریں گے۔کیونکہ سوال اس سے کیا جاتا ہے جو اس راہ کا جاننے والا ہو جس کا پتہ پوچھا جا رہا ہے۔جو اس میدان کا کھلاڑی ہو۔اللہ تعالیٰ کی طرف جانے والے، جانے کی خواہش رکھنے والے ہی اس سے پوچھنے کی کوشش کریں گے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص رسول اور پیارا