خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 415
خطبات مسرور جلد ہشتم 415 33 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 اگست 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 اگست 2010ء بمطابق 13 ظہور 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَإِنِّي قَرِيْب - أَجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا فِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (سورة البقرة : 187) یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے۔اس کا ترجمہ یہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اور جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقیناً میں قریب ہوں۔میں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں۔جب وہ مجھے پکارتا ہے۔پس چاہئے کہ وہ بھی میری بات پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔“ روزے ایک مجاہدہ ہیں اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر مبنی یہ آیت روزوں کے حکم اور ان کی تفصیلات کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔یعنی خدا تعالیٰ کا عبد بنا اور دعاؤں کی قبولیت کا نظارہ دیکھنا یہ ایک مجاہدہ کو چاہتا ہے۔اور رمضان کے روزے بھی ایک مجاہدہ ہیں جو اس کا ادراک حاصل کرتے ہوئے ایک مومن کو رکھنے چاہئیں۔یہ سمجھتے ہوئے رکھنے چاہئیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی خاطر یہ کام کر رہے ہیں نہ کہ صرف فاقہ۔اور یہ کہ اس کے لوازمات کیا ہیں ؟ ان کا بھی پوری طرح علم ہونا چاہئے۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا روزے ایک مجاہدہ ہیں۔خدا تعالیٰ کو نہ کسی کے فاقہ زدہ رہنے سے غرض ہے نہ ظاہری عبادتوں سے غرض ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں جیسا کہ ہم نے دیکھا پکارنے والے کی پکار کا جواب دینے کو مشروط کیا ہے۔یہ نہیں کہا کہ جو بھی مجھے پکارے، میں فوراً اس کا جواب دینے کے لئے بیٹھا ہوں میں جواب دوں گا چاہے جیسا بھی اس کا عمل ہو ، جیسی بھی اس کی حالت ہو۔ایسا نہیں ہے۔بلکہ فرمایا فَلْيَسْتَجِيبُوانی۔پس اگر یہ میرے بندے دعاؤں کی قبولیت چاہتے ہیں تو پہلے اُن کا فرض ہے کہ میری بات کو سن کر اس پر لبیک کہیں اور دوسری بات یہ کہ وَلْيُؤْمِنُوا ہی مجھ پر ایمان لائیں۔یہ حکم مسلمانوں کے لئے ہے لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے پر ایمان لائیں۔اپنے ایمان کو پختہ کریں اپنے ایمان میں ترقی پیدا کریں۔کیونکہ ایمان صرف ایک دفعہ کا خالی خولی