خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 414
خطبات مسرور جلد ہشتم 414 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 6 اگست 2010 کے فضل سے انتہائی اخلاص و وفا انہوں نے دکھایا۔اللہ تعالیٰ نے ان کو پھر بہت اجر عطا فرمایا۔اب جب گزشتہ سات آٹھ مہینے سے زیادہ بیمار ہوئے تو مجھے لکھتے رہے کہ میں یہاں آنا چاہتا ہوں۔جتنا وقت ہے وہ یہاں آپ کے قریب گزارنا چاہتا ہوں تو میں نے کہا یہیں آجائیں تو یہاں تشریف لے آئے۔گیسٹ ہاؤس میں جس دن آئے ہیں کافی بیمار تھے مجھے پتہ لگا تو میں نے کہا کہ جا کے میں پتہ کرتا ہوں لیکن ان کو کسی طرح پتہ چل گیا کہ میں آرہا ہوں تو بڑی تیزی سے یہ اپنے کمرے سے نکلے ہیں اور میرے دفتر پہنچ گئے۔میں نے ان سے پوچھا بھی کہ میں خود آرہا تھا۔تو انہوں نے کہا نہیں ، یہ نہیں ہو سکتا۔میں آیا ہوں ، میں نے خود ملنے آنا تھا۔اب وہ یہیں تھے۔چند دن پہلے زیادہ بیمار ہوئے ہیں تو ہسپتال داخل ہوئے ہیں اور پھر بیماری بڑھتی چلی گئی جو جان لیوا ثابت ہوئی۔عربی کے جو پروگرام تھے ”الحوار المباشر “ اس میں ان کا بڑا کر دار رہا ہے اور کسر صلیب کے لئے انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے غلام ہونے کا حقیقی حق ادا کیا ہے۔بائبل کا گہر اعلم رکھتے تھے اس وجہ سے بڑے بڑے پادری بھی ان کا احترام کرتے تھے۔کینسر کی بیماری تھی جو بڑے صبر سے انہوں نے گزاری ہے اور جب تک انتہا نہیں ہو گئی اس وقت تک خدمت کرتے رہے ہیں اور اپنے ساتھیوں پر بھی ظاہر نہیں ہونے دیا کہ بیماری کتنی شدید ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔آمین۔انشاء اللہ تعالیٰ جیسا کہ میں نے کہا غالب خیال یہی ہے کہ سوموار کو ان کا جنازہ ہو گا۔ان کے بیچوں بیٹے اور بیٹی نے آنا ہے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شماره 35 مورخه 27 اگست تا 2 ستمبر 2010 صفحہ 5 تا8)