خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 413
413 خطبات مسرور جلد ہشتم خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 اگست 2010 کے بعض کو ائف پیش کرتا ہوں۔ان کی فروری 1936ء میں مصر میں پیدائش ہوئی۔اس لحاظ سے تقریباً 74 سال عمر بنتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔1971 ء سے کینیڈا میں تھے۔1955ء میں ان کی بیعت ہوئی تھی۔بیعت کی کافی لمبی تفصیلات ہیں۔الفضل میں طاہر ندیم صاحب جو عرب احمدیوں کا تعارف کروا رہے ہیں اس میں ان کے بارہ میں بھی لکھا ہے۔ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہیں۔پہلی اہلیہ ان کی وفات پاگئیں تھیں پھر انہوں نے دوسری شادی کی ہے۔یہ مختلف آئل کمپنیوں میں کام کرتے رہے ہیں۔ان کے پاس جماعتی عہدے بھی تھے۔کینیڈا میں نیشنل سیکرٹری تبلیغ رہے ہیں اور 85ء میں یہاں پر انٹر نیشنل کمیٹی کے چیئر مین بھی رہے۔یہ جماعتی خدمات کا ایک خاص جوش اور ولولہ رکھتے تھے۔عربوں کے لئے آڈیو کیسٹ تیار کرتے رہے۔ایم ٹی اے کے لئے بہت سارا موادا نہوں نے تیار کیا ہوا ہے۔ان کے کئی پروگرام آچکے ہیں۔مالی قربانی میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔انہوں نے اپنی بہت ساری بڑی بڑی رقمیں جماعت کے لئے پیش کیں۔ان کے بارہ میں ایک دفعہ حضرت خلیفہ المسیح الرابع نے یہ فرمایا تھا کہ میں نے ایک دفعہ حساب کیا یہ اپنی آمد کا ستر (70) فیصد چندوں میں ادا کر دیا کرتے تھے۔بہت زیادہ مالی قربانی کرنے والے تھے۔پرنٹنگ پریس لگانے کے لئے انہوں نے مرکز میں خرچ کیا اور مصر میں دارالتبلیغ میں بھی اور کئی کتب انہوں نے تصنیف کی ہیں۔محکمة الفكر عربی کی کتاب ہے۔اجوبة عن الايمان الاسلام الدين الحى ، معجزه الفلكية، السيرة المطهره، دلائل صدق الانبیاء اور اسی طرح حضرت چوہدری سر ظفر اللہ خاں صاحب کی ایک کتاب ہے حضرت خلیفہ الاول نوردین۔اس کا عربی میں ترجمہ کیا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی کتاب & Revelation, Rationality, Knowledge" "Truth کا ترجمہ کیا۔انہوں نے Five Volume کی کمنٹری کی پہلی جلد کا بھی ترجمہ کیا 2003ء میں مجھے یاد ہے مسودہ میرے پاس لے کر آئے اور اس وقت کافی بیمار تھے اور کہا کہ مجھے اتنی توفیق مل جائے کہ یہ مکمل ہو جائے اور اس کی اشاعت ہو جائے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کو توفیق دی اور غالباً چار یا پانچ ماہ ہوئے کہ یہ شائع بھی ہو گئی ہے۔اسی طرح دیباچہ تفسیر القرآن کا ترجمہ انہوں نے کیا، گو دوسرے ساتھی بھی ان کے ساتھ شامل ہوئے۔جلسوں پر اچھی تقریریں کیا کرتے تھے۔ہر تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے۔میں نے ان کو پہلی دفعہ 1984ء میں غالباً گھانا میں دیکھا۔یہ 84ء میں خلیفہ المسیح الرابع کے کہنے پر گھانا گئے تھے۔گھانا میں اس وقت بعض غیر احمدیوں کا خیال تھا کہ عرب مسلمان جو ہیں وہ احمدی نہیں ہوتے تو اس وقت حضرت خلیفہ المسیح الرابع نے ان کو بھجوایا تھا کہ جائیں اور وہاں ان مسلمانوں میں جہاں عربوں کا زیادہ رسوخ ہے احمدیت کی تبلیغ کریں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کو وہاں کافی موقع ملا اور اس کے بعد 84ء میں جب حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے ہجرت کی تو یہ بھی یہاں آگئے تھے تو انہوں نے اشاعت تصنیف کا کام بہت کیا اور کچھ تھوڑا سا ابتلا میں سے بھی گزرنا پڑا لیکن خدا تعالیٰ